Main Icon

باب: فخر اور تعصب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4903

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِي عُقْبَةَ عَنْ أَبِي عُقْبَةَ وَكَانَ مَوْلًى مِنْ أَهْلِ فَارِسَ قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُحُدًا فَضَرَبْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَقُلْتُ خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلَامُ الْفَارِسِيُّ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: " هَلَّا قُلْتَ: خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلَامُ الْأَنْصَارِيُّ؟ ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن عبد الرحمن بن أبي عقبة عن أبي عقبة وكان مولى من أهل فارس قال: شهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم أحدا فضربت رجلا من المشركين فقلت خذها مني وأنا الغلام الفارسي فالتفت إلي فقال: " هلا قلت: خذها مني وأنا الغلام الأنصاري؟ ". رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے عبدالرحمن ابن عقبہ سے وہ حضرت ابی عقبہ سے راوی ۱∞؎اور وہ فارسی غلام سے تھے فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ احد میں حاضر ہوا تو میں نے مشرکین میں سے ایک شخص کو مارا تو میں نے کہا لے لے مجھ سے میں فارسی غلام ہوں ۲؎تو میری طرف رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے دیکھا فرمایا تم نے کیوں نہ کہا کہ مجھ سے یہ لے اور میں انصاری غلام ہوں ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یہ عبدالرحمن تابعی ہیں،ان کے والد ابوعقبہ صحابی ہیں یہ اہل فارس سے تھے،جبیر ابن عتیق انصاری کے آزاد کردہ غلام تھے لہذا نسبًا فارسی تھے مگر موالات کے لحاظ سے انصاری تھے،ان کا نام رشد ہے کنیت ابو عقبہ۔
۲
؎یعنی میں نے اپنے فارسی النسل ہونے پر فخرکرتے ہوئے کافر پر حملہ کیا۔
۳
؎یعنی حضور صلی الله علیہ وسلم نے فارسی ہونے کے فخر کرنے پر ناراضی کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ اپنے کو مسلمانوں کی طرف نسبت کرو اس پر فخر کرو اور اس زمانہ میں اہلِ فارس کفار تھے اب وہاں اسلام عام شائع ہے اور عام لوگ مسلمان ہیں چونکہ قوم کا مولا انہیں میں سے ہوتا ہے اس لیے انہیں غلام انصاری فرمایا گیا لہذا اس کا مطلب واضح ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4903