Main Icon

باب: فخر اور تعصب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4895

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: فِي يَوْمِ حُنَيْنٍ كَانَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذًا بِعِنَانِ بَغْلَتِهٖ يَعْنِي بَغْلَةَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا غَشِيَۃُ المُشْرِكُونَ نَزَلَ فَجَعَلَ يَقُولُ أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبَ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: فَمَا رُئِيَ مِنَ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ أَشَدُّ مِنْهُ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن البراء بن عازب قال: في يوم حنين كان أبو سفيان بن الحارث اخذا بعنان بغلته يعني بغلة رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما غشيۃ المشركون نزل فجعل يقول أنا النبي لا كذب أنا ابن عبد المطلب قال: فما رئي من الناس يومئذ أشد منه. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے وہ حنین کے متعلق فرماتے ہیں ۱∞؎کہ ابو سفیان ابن حارث آپ کے یعنی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے خچر کی لگام پکڑے ہوئے تھے ۲؎تو جب مشرکین نے آپ کو گھیر لیا تو آپ اترے کہنے لگے میں جھوٹا نبی نہیں میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۳؎فرماتے ہیں اس دن حضور سے زیادہ کوئی بہادرنہیں دیکھا گیا ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حنین مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان ایک وسیع پتھریلا علاقہ ہے،اس فقیر نے اس میدان کی زیارت کی ہے،فتح مکہ کے بعد یہ غزوہ واقع ہوا قبیلہ ہوازن سے یہ جنگ ہوئی۔
۲
؎یہ ابوسفیان ابن حارث ابن عبدالمطلب ہیں حضور صلی الله علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور حضور کے اخیافی بھائی کہ حلیمہ دائی بنت ذویب سعدیہ کا دودھ انہوں نے بھی پیا ہے،بڑے شاعر تھے،زمانہ کفر میں حضور انور کے خلاف انہوں نے بہت اشعار لکھے تھے جن کے جواب حضرت حسان نے دیئے تھے،پھر الله نے اسلام کی توفیق دی تو بعد اسلام کبھی حضور کے سامنے سر نہ اٹھایا شرم کی وجہ سے،فتح مکہ کے سال مسلمان ہوئے،حضرت علی مرتضیٰ نے ان سے کہا تھا کہ حضور کے سامنے جا کھڑا ہوؤ اوریہ آیت پڑھو"تَالله لَقَدْ اٰثَرَکَ اللهُ عَلَیۡنَا وَ اِنۡ کُنَّا لَخٰطِئِیۡنَ"چنانچہ انہوں نے یہ ہی کہا،حضور انور نے فرمایا:"لَا تَثْرِیۡبَ عَلَیۡکُمُ الْیَوْمَ"۔ ۲۰ھ؁∞ میں وصال ہوا،عقیل ابن ابی طالب کے گھر میں دفن ہوئے حضرت عمر فاروق نے نماز پڑھائی یہ ابوسفیان وہ نہیں جو امیر معاویہ کے والد ہیں وہ تو ابوسفیان ابن حرب ابن صخر اموی ہیں۔(مرقات)۳؎غزوہ حنین میں اولًا مسلمانوں کو ہزیمت ہوگئی تھی قبیلہ ہوازن و غطفان نے حضور انور کے خچر کو گھیر کر حضور پر حملہ کرنا چاہا تب آپ خچر سے اترے اور تلوار سونت کر یہ فرمایا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور کے دادا حضرت عبدالمطلب رضی الله عنہ مؤمن بھی ہیں بہادربھی آپ کی اولاد بہادری میں مشہور بھی ہے، حضور انور نے ان کے اولاد ہونے پر فخر فرمایا،یہ فخرکفار کے مقابلہ میں اظہار شجاعت کے لیے تھا لہذا بالکل درست تھا۔مشرک باپ داداؤں پر فخرجائز نہیں اگر عبدالمطلب کافر مشرک ہوتے تو حضور ان کی اولاد ہونے پر فخر نہ فرماتے،از آدم علیہ السلام تا حضرت عبدالله حضور کے تمام آباؤ اجداد کفر اور زنا سے محفوظ رہے۔
۴
؎یعنی حضور کی شجاعت کے جوہر آج دیکھے گئے کہ ایسے نازک موقعہ پر بجائے بھاگنے کے سواری سے اتر کر پیدل ہولیے تلوار سونت کر ان ہزاروں کے مقابلہ میں اکیلے آگئے۔شعر
وہ موقعہ جب فضاءآسمان بھی تھرتھراتی تھی محمد تھے کہ ان کے پاؤں میں لغزش نہ آتی تھی

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4895