Main Icon

باب : ہواؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1511

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَاد بالدبور”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “نصرت بالصبا وأهلكت عاد بالدبور”(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ پروا کے ذریعے میری مدد کی گئی اوربچھوا کے ذریعہ قوم عاد ہلاک کی گئی ۱∞؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎صباوہ ہوا ہے جومشرق سےمغرب کو چلے،یہ تیز ہوتی ہے اکثر بارش لاتی ہے۔اوردبورہوا وہ ہے جومغرب سے مشرق کو جائے،یہ گرم وخشک ہوتی ہے،زمین کو خشک کرتی ہے اور اکثر بادل کو پھاڑ دیتی ہے،بارش کو دورکرتی ہے۔غزوہ خندق میں جب سارے کفارعرب نے مدینہ پاک کوگھیر لیا تھا تو ایک رات پروا ہوا تیز چلی جس سے کفار کے خیمے اڑ گئے،دیگچیاں ٹوٹ گئیں،جانور بھاگ گئے،ان کے منہ مٹی ریت سے بھرگئے آخر کار سب کو بھاگنا پڑا۔اہل مدینہ کو امن ملی اورہود علیہ السلام کی قوم عادبچھوا سے ہلاک ہوئی،اس حدیث میں اسی جانب اشارہ ہے۔غرضکہ ہوا وپانی کفار کے لیے عذاب،مومن کے لیے رحمت ہوجاتے ہیں،دریا نیل کا پانی قبطیوں پر عذاب،سبطیوق پر رحمت تھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1511