Main Icon

باب : ہواؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1517

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا لَعَنَ الرِّيحَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: “لَا تَلْعَنُوا الرِّيحَ فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ وَأَنَّهٗ مَنْ لَعَنَ شَيْئًا لَيْسَ لَهٗ بِأَهْلٍ رَجَعَتِ اللَّعْنَةُ عَلَيْهِ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

وعن ابن عباس أن رجلا لعن الريح عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال: “لا تلعنوا الريح فإنها مأمورة وأنه من لعن شيئا ليس له بأهل رجعت اللعنة عليه” . رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ ایک شخص نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس ہوا پرلعنت کی تو فرمایا ہوا پرلعنت نہ کرو یہ تو زیر فرمان ہے اور جوکسی ایسی چیزکو لعنت کرے جو ان کے لائق نہ ہوتو لعنت خود کرنے والے پرلوٹتی ہے ۱∞؎(ترمذی)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ہوا لعنت کی مستحق نہیں،اب جو اس پر لعنت کرے گا تو وہ لعنت خود اس کی اپنی ذات پر پڑے گی۔اس سے معلوم ہوا کہ جانوروں پر لعنت یا زمانہ کو بُرا کہنا جیساکہ مولوی محمود حسن صاحب نے کہا سب ناجائز ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1517