Main Icon

باب : ہواؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1516

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: “الرِّيحُ مِنْ روح الله تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ وَ بِالْعَذَابِ فَلَا تَسُبُّوهَا وَسَلُوا اللهَ مِنْ خَيْرِهَا وَعُوذُوا بِهٖ مِنْ شَرِّهَا” . رَوَاهُ الشَّافِعِي وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَ الْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ

عن أبي هريرة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: “الريح من روح الله تأتي بالرحمة و بالعذاب فلا تسبوها وسلوا الله من خيرها وعوذوا به من شرها” . رواه الشافعي وأبو داود وابن ماجه و البيهقي في الدعوات الكبير

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ہوا الله کی رحمت ہے رحمت بھی لاتی ہے عذاب بھی لہذا اسے برانہ کہو ۱∞؎الله سے اس کی خیر مانگو اور اس کی شر سے الله کی پناہ مانگو۲؎(شافعی،ابوداؤد،ابن ماجہ،بیہقی ،دعوات کبیر )

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر کبھی ہوا سے کوئی نقصان یا تکلیف پہنچے تو ہوا کو گالیاں نہ دو کیونکہ وہ تو حکم الٰہی سے سب کچھ لاتی ہے۔خیال رہے کہ ہوا رحمت ہے مگر کافروں پر عذاب لاتی ہے،مؤمنوں کے لیے رحمت ہے،ایسے غافلوں کی گو شمالی کرتی ہے یہ بھی رحمت ہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جب ہوا رحمت ہے تو عذاب کیوں لاتی ہے۔۲؎ہوائیں آٹھ ہیں:چار رحمت کی۔ناشرات،ذاریات،مرسلات،مبشرات اور چار عذاب کی۔عاصف،قاصف،صرصر،عقیم،پہلی دو سمندروں میں عذاب کی ہیں،آخری دو خشکی میں۔(مرقاۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1516