Main Icon

باب : ہواؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1513

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَصَفَتِ الرِّيحُ قَالَ: “اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهٖ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهٖ “ وَإِذَا تَخَيَّلَتِ السَّمَاءُ تَغَيَّرَ لَوْنَهٗ وَخَرَجَ وَدَخَلَ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ فَإِذَا مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ فَعَرَفَتْ ذٰلِكَ عَائِشَةُ فَسَأَلَتْهُ فَقَالَ: " لَعَلَهٗ يَا عَائِشَةُ كَمَا قَالَ قَوْمُ عَادٍ: (فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا: هٰذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا) وَفِي رِوَايَةٍ: وَيَقُولُ إِذَا رَأَى المَطَرَ “رَحْمَةً» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنها قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا عصفت الريح قال: “اللهم إني أسألك خيرها وخير ما فيها وخير ما أرسلت به وأعوذ بك من شرها وشر ما فيها وشر ما أرسلت به “ وإذا تخيلت السماء تغير لونه وخرج ودخل وأقبل وأدبر فإذا مطرت سري عنه فعرفت ذلك عائشة فسألته فقال: " لعله يا عائشة كما قال قوم عاد: (فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم قالوا: هذا عارض ممطرنا) وفي رواية: ويقول إذا رأى المطر “رحمة» (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ جب تیز ہوا چلتی تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم عرض کرتے الٰہی میں تجھ سے ہوا کی خیر اور جو اس ہوا میں ہے اس کی خیر اور جو چیز ہوا لے کر بھیجی گئی اس کی خیر مانگتا ہوں ۱∞؎اور ہوا کے شر اور جو اس میں ہے اس کے شر سے اور جو لےکر ہوا بھیجی گئی اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور جب آسمان ابر آلود ہوتا آپ کا رنگ بدل جاتا باہر جاتے اندر آتے سامنے آتے پیچھے جاتے جب مینہ برستا تویہ کیفیت دور ہوتی حضرت عائشہ نے پہچان لیا تو اس کے بارے میں حضور سے پوچھا فرمایا اے عائشہ شاید یہ ایسا ہی ہو جیسا قوم عاد نے کہا تھا کہ جب جنگلوں کی طرف بادل آتے دیکھا تو بولے یہ ہم پر برسنے والا بادل ہے۲؎اور ایک روایت میں ہے جب بارش دیکھتے تو فرماتے خدایا رحمت ہو۔(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حضورصلی الله علیہ وسلم نے آندھی کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے۔اب بھی پڑھنی چاہیئے،یعنی اے مولیٰ! میں اس ہوا کی عمومی بھلائی بھی مانگتا ہوں اورخصوصی بھلائی بھی اور اس کے عمومی اورخصوصی شر سے تیری پناہ مانگتاہوں۔۲؎یعنی اے عائشہ! رب پر امن نہ چاہیے،ہمیشہ اس سے ڈرتے رہنا چاہیے،بادل کبھی عذاب بھی لاتا ہے،قوم عاد پر عذاب بادل ہی کی شکل میں آیا تھا۔خیال رہے کہ الله کی ہیبت قوتِ ایمانی کی دلیل ہے اور الله کے وعدوں پر بے اطمینانی کفار کا طریقہ ہے اور سخت کفر ہے،یوں ہی خدا سے امید ایمان کارکن ہے،خدا پرامن کفر ہے،یہاں حضور صلی الله علیہ وسلم کو پہلی قسم کا خوف ہوتا تھا یعنی ہیبت خدائے تعالی۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگرچہ رب تعالٰی نے حضورصلی الله علیہ وسلم سے وعدہ فرمالیا تھا کہ تمہارے ہوتے کافروں پربھی عذاب نہ آئے گامگرحضورصلی الله علیہ وسلم کو اس وعدے پر اطمینان نہ تھا اس لیے ڈرتے تھے کہ کہیں رب نے وعدہ خلافی کی ہو اور عذاب بھیج دیا ہوجیسا کہ بعض احمقوں نے یہ سمجھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1513