Main Icon

باب : ہواؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1521

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَ إِذَا سَمِعَ صَوْتَ الرَّعْدِ وَالصَّوَاعِقِ قَالَ: “اَللّٰهُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِكَ وَلَا تُهْلِكْنَا بِعَذَابِكَ وَعَافِنَا قَبْلَ ذٰلِكَ “ . رَوَاهُ أَحْمدُ وَالتِّرْمِذِيْ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم : كان إذا سمع صوت الرعد والصواعق قال: “اللهم لا تقتلنا بغضبك ولا تهلكنا بعذابك وعافنا قبل ذلك “ . رواه أحمد والترمذي وقال: هذا حديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب گرج وکڑک کی آواز سنتے ۱∞؎تو کہتے کہ الٰہی ہمیں اپنے غضب سے غارت نہ کر اور اپنے عذاب سے ہمیں ہلاک نہ کر اس سے پہلے ہمیں عافیت دے۔(احمد،ترمذی)ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎رعداس فرشتہ کا نام ہے جوبادلوں پرمقرر ہے اور صاعقہ اس کاکوڑا ہےجس سے وہ بادلوں کو ہانکتا چلاتاہے،کبھی اس کوڑے کی آواز سنی جاتی ہے۔حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رعد فرشتہ اس وقت تسبیح کرتا ہے،یہ آواز اس کی تسبیح کی ہوتی ہے،اس آواز پر سارے فرشتے تسبیح میں مشغول ہوجاتے ہیں،ہم کوبھی اس وقت سارے کام وکلام بندکرکے ذکرکرنا چاہیے۔مرقاۃ نے فرمایا رعد سننے میں آتی ہے اور صاعقہ دیکھنے میں،لہذا یہاں سننے سے مراد احساس فرمانا ہے،حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔خیال رہے کہ صاعقہ کے معنی ہیں بے ہوش ہونے والی چیز،چونکہ اس گرج چمک سےبھی کبھی لوگ بےہوش ہوجاتے ہیں اس لیے صاعقہ کہاجاتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1521