Main Icon

باب : ہواؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1519

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: مَا هَبَّتْ رِيحٌ قَطُّ إِلَّا جَثَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلیٰ رُكْبَتَيْهِ وَقَالَ: “اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهَا رَحْمَةً وَلَا تَجْعَلْهَا عَذَابًا اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهَا رِيَاحًا وَلَا تَجْعَلْهَا رِيحًا” . قَالَ ابْن عَبَّاسٍ فِي كِتَابِ اللهِ تَعَالٰى: (إِنَّا أرسلنَا عَلَيْهِم ريحًا صَرْصَرًا) و (أرسلنَا عَلَيْهِم الرّيح الْعَقِيم) (وَأَرْسَلْنَا الرِّيَاح لَوَاقِح) و (أَن يُرْسل الرِّيَاح مُبَشِّرَات) رَوَاهُ الشَّافِعِي وَالْبَيْهَقِيّ فِي الدَّعْوَاتِ الْكَبِيْرِ

وعن ابن عباس قال: ما هبت ريح قط إلا جثا النبي صلى الله عليه وسلم علی ركبتيه وقال: “اللهم اجعلها رحمة ولا تجعلها عذابا اللهم اجعلها رياحا ولا تجعلها ريحا” . قال ابن عباس في كتاب الله تعالى: (إنا أرسلنا عليهم ريحا صرصرا) و (أرسلنا عليهم الريح العقيم) (وأرسلنا الرياح لواقح) و (أن يرسل الرياح مبشرات) رواه الشافعي والبيهقي في الدعوات الكبير

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سےفرماتے ہیں کہ ایسا کبھی نہ ہوا کہ ہوا چلے اور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اپنے گھٹنوں شریف پر بیٹھ کر یہ نہ کہیں ۱∞؎کہ الٰہی اسے رحمت بنا اسے عذاب نہ بنا الٰہی اسےریاح بنا ریح نہ بناحضرت ابن عباس نے فرمایا کہ الله کی کتاب میں ہے کہ ہم نے ان پر تیز ہوا (آندھی)بھیجی اور ہم نے ان پر بانجھ ہوا بھیجی اور ہم نے حاملہ ہوائیں بھیجیں اور یہ کہ خوشخبریاں دینے والی ہوائیں بھیجیں۲؎(شافعی،بیہقی دعوات کبیر)

شرح حدیث

۱∞؎دونوں پنڈلیاں بچھاکر رانوں پرکھڑے ہوکر یہ فرماتے تھے اس طرح بیٹھناانتہائی عجز کا اظہار ہے،خصوصی دعاؤں کے وقت ایسی نشست قبولیت کا ذریعہ ہے۔۲؎حضرت ابن عباس نے اس حدیث کی شرح قرآنی آیات سے فرمائی کہ قرآن کریم میں ریح تو عذاب کی ہوا کو کہا گیا ہے اور ریاح رحمت کی ہوا کو اس لیے حضورصلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے ریح نہ بنا،ریاح بنا۔خیال رہے کہ قرآن کریم میں ریح کو رحمت کی ہوا بھی کہا گیا ہے مگرکسی صفت کے ساتھ،جیسے رب کا فرمان:"وَجَرَیۡنَ بِہِمۡ بِرِیۡحٍ طَیِّبَۃٍ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1519