Main Icon

باب : ہواؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1514

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ ثُمَّ قَرَأَ: (إِنَّ اللهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ)الْآيَة. رَوَاهُ البُخَارِيّ

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مفاتيح الغيب خمس ثم قرأ: (إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث)الآية. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ غیب کی کنجیاں پانچ ہیں ۱∞؎پھر یہ آیت تلاوت کی کہ الله کے پاس ہی قیامت کا علم وہی بارش برستا ہے۔الایہ(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں اس آیت کی طرف اشارہ ہے "وَعِنۡدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیۡبِ لَایَعْلَمُہَاۤ اِلَّاهُوَاس آیت کی تحقیق مرآت کے شروع میں کی جاچکی ہے،نیز ہماری تفسیر "نور العرفان" میں ملا حظہ کرو۔یعنی یہ پانچ چیزیں کہ قیامت کب ہوگی،بارش کب آئے گی،عورت کے پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی،کہاں مرے گا،کل کیا کرے گا یہ غیب کی کنجیاں ہیں جن سے ہزارہا غیب کا پتہ چلتا ہے،یہ چیز اندازے،حساب وغیرہ کسی عقلی علم سے معلوم نہیں ہوسکتیں صرف رب تعالٰی جانتا ہے یا جسے وہ بتائے وہ جانتاہے اسی لیے انہیںمفاتیحفرمایا گیا یعنی چابیاں۔اور ظاہر ہے کہ قفل وچابی میں وہ چیزیں رکھی جاتی جسے کھول کرکسی کو دینا ہو ورنہ دفن کی جاتی ہے۔رب تعالٰی نے یہ علوم بعض فرشتوں، انبیاء،اولیاء کو بخشے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1514