Main Icon

باب : پچھلے باب کا تتمہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3016

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ رَيْحَانٌ فَلَا يَرُدُّهٗ فَإِنَّهٗ خَفِيفُ الْمَحْمَلِ طَيِّبُ الرِّيحِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من عرض عليه ريحان فلا يرده فإنه خفيف المحمل طيب الريح» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جس پر خوشبو تحفتہً پیش کیا جائے ۱؎وہ اسے واپس نہ کرے کہ اس کا بوجھ ہلکا ہے خوشبو اچھی ہے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎ہم نے تحفہ کی قید اس لیے لگائی کہ تجارت کی نوعیت نکل جائے،بعض عطر فروش کسی کو قیمتًا عطر پیش کرتے ہیں،اگر اسے خریدنا نہ ہو اور وہ انکارکرے تو حدیث پڑھ کر اسے خریدنے پر مجبور کرتے ہیں،وہ اس حدیث کی منشاء سے یا توواقف نہیں یا واقف ہیں مگر اس کے ذریعہ اپنا بیوپار چلانا چاہتے ہیں۔ریحانریحٌسے بنا بمعنی خوشبو اس سے ہر خوشبو مراد ہے،پھول ہوں یا عطر چنبیلی وغیرہ کا تیل۔
۲
؎یعنی اگرچہ دوسرے ہدیے بھی واپس کرنا خلاف اخلاق ہے مگر خوشبو واپس کرنا تو بہت ہی خشک مزاجی کی دلیل ہے کہ اس میں وزن ہلکا قیمت معمولی خوشبو اعلٰی ہے۔مرقات نے فرمایا کہ خوشبو جنت سے آئی ہے اور وہاں کا ہی پتہ دیتی ہے۔مبسوط سرخسیباب اللمسمیں ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم فاطمہ زہرا کو سونگھا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ ان سے جنت کی مہک آتی ہے اسی لیے آپ کو زہراء کہتے ہیں یعنی جنت کی کلی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3016