Main Icon

باب : پچھلے باب کا تتمہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3020

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَرْجِعُ أَحَدٌ فِي هِبَتِهٖ إِلَّا الْوَالِدُ مِنْ وَلَدِهٖ. رَوَاهُ النَّسَائِيّ وَابْنُ مَاجَه

عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يرجع أحد في هبته إلا الوالد من ولده. رواه النسائي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللّٰهابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ کوئی شخص اپنا دیا ہوا ہبہ واپس نہ لے سوائے باپ کے اپنے بیٹے سے ۱؎(نسائی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اسی حدیث کی بنا پر امام شافعی فرماتے ہیں کہ والد اولاد کو عطیہ دے کر واپس لے سکتا ہے،دیگر اہل قرابت سے واپس نہیں لے سکتے، امام اعظم کے ہاں باپ بھی بیٹے کو دیا ہوا عطیہ واپس نہیں لے سکتا،اس کی دلیل حضور عالی کا وہ فرمان ہے کہ جب ذی رحم محرم کو ہبہ دیا جائے تو واپس نہ ہوگا اور فاروق اعظم کا یہ فرمان ہے کہ اہل قرابت کا ہبہ جائز ہے اوراجنبی کا ہبہ واپس ہو سکتا ہے جب تک کہ اس کا عوض نہ دیا گیا ہو۔اس حدیث کا مطلب امام اعظم کے ہاں یہ ہے کہ بوقت ضرورت باپ بیٹے کا عطیہ واپس لے سکتا ہے کیونکہ یہ مال بیٹے کا تھا اور باپ بیٹے کا مال ضرورۃً بغیر اجازت خرچ کرسکتاہے۔(لمعات،مرقات)یا یہ کہ دوسرا عطیہ والا اگر ہدیہ واپس لے تو قاضی کے فیصلہ کی ضرورت ہے لیکن والد بوقت ضرورت بغیر قضاء قاضی واپس لے سکتا ہے۔(اشعہ و لمعات و مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3020