Main Icon

باب : پچھلے باب کا تتمہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3019

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّ أَبَاهُ أَتٰى بِهٖ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هٰذَا غُلَامًا فَقَالَ: «أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَهٗ؟» قَالَ: لَا قَالَ: «فَأَرْجِعْهُ» . وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّهٗ قَالَ: «أَيَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا إِلَيْكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً؟» قَالَ: بَلٰى قَالَ: «فَلَاإِذَنْ» . وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّهٗ قَالَ: أَعْطَانِي أَبِي عَطِيَّةً فَقَالَتْ عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ: لَا أَرْضَى حَتّٰى تُشْهِدَرَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتٰى رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أَعْطَيْتُ ابْنِي مِنْ عَمْرَةَ بِنْتِ رَوَاحَةَ عَطِيَّةً فَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ قَالَ: «أَعْطَيْتَ سَائِرَ وَلِدِكَ مِثْلَ هٰذَا؟» قَالَ: لَا قَالَ: «فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ» . قَالَ: فَرَجَعَ فَرَدَّ عَطِيَّتَهٗ. وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّهٗ قَالَ: «لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاما فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه» . وفي رواية: أنه قال: «أيسرك أن يكونوا إليك في البر سواء؟» قال: بلى قال: «فلاإذن» . وفي رواية: أنه قال: أعطاني أبي عطية فقالت عمرة بنت رواحة: لا أرضى حتى تشهدرسول الله صلى الله عليه وسلم فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني أعطيت ابني من عمرة بنت رواحة عطية فأمرتني أن أشهدك يا رسول الله قال: «أعطيت سائر ولدك مثل هذا؟» قال: لا قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم» . قال: فرجع فرد عطيته. وفي رواية: أنه قال: «لا أشهد على جور»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے ۱؎کہ ان کے والد انہیں رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم خدمت میں لائے عرض کیا میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام دیا ہے حضور نے فرمایا کیا تم نے اپنی ساری اولاد کو اسی طرح دیا ہے ۲؎عرض کیا نہیں فرمایا تو اسے لوٹا لو۳؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ نے فرمایا کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ وہ ساری اولاد تمہاری خدمت میں برابر ہو عرض کیا ہاں فرمایا تو نہیں۴؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ فرماتے ہیں مجھے میرے باپ نے کچھ عطیہ دیا تو عمرہ بنت رواحہ بولیں ۵؎میں تو راضی نہیں حتی کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو گواہ کر لو ۶؎تو وہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر آئے عرض کیا میں نے اپنے اس بیٹے کو جو عمرہ بنت رواحہ سے ہے ۷؎ایک عطیہ دیا ہے وہ کہتی ہیں میں یارسولاللّٰهآپ کو گواہ بنالوں فرمایا کیا تم نے اپنے سارے بچوں کو اسی طرح دیا ہے عرض کیا نہیں فرمایااللّٰهسے ڈرو اور اپنی اولاد میں انصاف کرو ۸؎فرماتے ہیں میرے والد لوٹ گئے پھر اپنا عطیہ واپس کرلیا اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں ظلم پر گواہ نہیں ہوتا ۹؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ خود بھی صحابی ہیں آپ کے والدین بھی صحابی،آپ کی کنیت ابو عبداللّٰهہے،انصاری ہیں،اسلام میں سب سے پہلے بچے ہیں جو انصار میں پیدا ہوئے،ہجرت کے چودھویں مہینے پیدا ہوئے،حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی وفات کے وقت آپ کی عمر آٹھ سال سات ماہ تھی، کوفہ میں قیام رہا،امیر معاویہ کی طرف سے حمص کے حاکم تھے، ۶۴ھ؁∞ میں قتل کیے گئے۔(اکمال،اشعہ،مرقات)
۲
؎اس سے معلوم ہوا کہ اولاد کو برابر عطیے دے،بعض کو بعض پر ترجیح نہ دے کہ کسی کو کچھ نہ دے یا کسی کو زیادہ دے۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ زندگی میں لڑکی لڑکے کو برابر دے،لڑکے کا دوگنا حصہ میراث میں ہے نہ کہ عطیہ میں،بعض نے فرمایا کہ زندگی میں بھی لڑکے کو دوگنا دے اور لڑکی کو ایک حصہ۔(درمختار،شامی،وغیرہ)بعض بزرگ لڑکیوں کو دوگنا دیتے ہیں کہتے ہیں کہ لڑکیاں ماں باپ کے گھر مہمان ہیں،لڑکے مقیم۔
۳
؎اس سے معلوم ہوا کہ باپ اولاد کو دے کر واپس لے سکتا ہے دوسرے اہل قرابت نہیں لے سکتے۔قرابت اسے مانع ہے یعنی تب تم بھی اپنے عطیہ میں فرق نہ کرو برابر دو۔
۵
؎عمرہ عین کے فتح سے،نعمان کی والدہ ہیں،بشیر کی بیوی،عبداللّٰهابن رواحہ کی بہن ہیں۔
۶
؎تاکہ عطیہ پختہ ہوجائے تمہارےبعد اولاد کا آپس میں جھگڑا نہ ہو،آج کل جو غیر منقول جائیداد کے بیع نامہ رجسٹری کرائے جاتے ہیں اسی کی اصل یہ حدیث ہے،رجسٹری میں حکومت کو گواہ بنایا جاتا ہے۔
۷
؎معلوم ہواکہ نعمان تو عمرہ بنت رواحہ سے تھے باقی اور اولاد دوسری بیویوں سے جن کی مائیں فوت ہوچکی ہوں گی اس لیے یہ واقعہ ہوا۔
۸
؎اس حدیث کی بنا پر علماء فرماتے ہیں کہ باپ اپنی زندگی میں بیٹا بیٹی ساری اولاد میں برابری کرے،بیٹے کے لیے دوگنا حصہ بعد وفات ہے حتی کہ پیار محبت بلکہ چومنے میں بھی برابری کرے۔(مرقات)اگرچہ قدرتی طور پر چھوٹے بچے سے زیادہ محبت ہوتی ہے،نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فاطمہ زہرا بہت پیاری تھیں کہ سب سے چھوٹی تھیں۔
۹
؎اس حدیث کی بنا پر امام احمد ثوری و اسحاق نے فرمایا کہ اولاد کے عطیوں میں کمی بیشی کرنا حرام ہے کیونکہ حضور انور نے اسے ظلم فرمایا ہے اور ظلم حرام ہے،ان بزرگوں کے ہاں اس صورت میں ہبہ درست ہی نہ ہوگا مگر امام ابوحنیفہ، شافعی و مالک و جمہور علماء رحمہماللّٰهکے ہاں یہ زیادتی کمی مکروہ ہے جب کہ بلاوجہ ہو،اس میں ہبہ درست ہی ہوگا۔اس حدیث سے معلوم ہورہا ہے کہ ہبہ درست ہوگیا تھاورنہ رجوع کے کیا معنی،نیز دوسری روایات میں ہے کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا اس عطیہ پر کسی اور کو گواہ بنالو،اگر یہ حرام قطعی ہوتا تو کسی اور کو گواہ بنانے کے کیا معنی۔ حضرت ابوبکر صدیق نے حضرت عائشہ صدیقہ کو اکیس وسق کھجوریں دیں جو اور اولاد کو نہ دیں،حضرت عمر نے اپنے بیٹے عاصم کو ایک دفعہ ایک خاص عطیہ دیا جو اور اولاد کو نہ دیا،عبدالرحمن ابن عوف نے اپنی بیٹی ام کلثوم کی اولاد کو خاص عطیہ دیا جو اور اولاد کو نہ دیا،تمام صحابہ نے یہ واقعات دیکھے اور کسی نے انکار نہ کیا لہذا اس کے جواز پر صحابہ کا اجماع ہوگیا۔(مرقات)خیال رہے کہ متقی بیٹے کو فاسق بیٹے سے زیادہ دینا یا غریب معذور بےد ست وپا اولاد کو دوسری امیر اولاد سے کچھ زیادہ دینا بلاکراہت درست ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3019