Main Icon

باب : پچھلے باب کا تتمہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3023

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أُعْطِيَ عَطَاءً فَوَجَدَ فَلْيُجْزِ بِهٖ وَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُثْنِ فَإِنَّ مَنْ أَثْنٰى فَقَدْ شَكَرَ وَمَنْ كَتَمَ فَقَدْ كَفَرَ وَمَنْ تَحَلّٰى بِمَا لَمْ يُعْطَ كَانَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُوْرٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

وعن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من أعطي عطاء فوجد فليجز به ومن لم يجد فليثن فإن من أثنى فقد شكر ومن كتم فقد كفر ومن تحلى بما لم يعط كان كلابس ثوبي زور» . رواه الترمذي وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا جسے کوئی عطیہ دیا جائے اگر ہوسکے تو اس کا بدلہ دے دے اور جو کچھ نہ پائے وہ اس کی تعریف کردے ۱؎کہ جس نے تعریف کردی اس نے شکریہ ادا کیا جس نے چھپایا اس نے ناشکری کی ۲؎اور جو ایسی چیز سے ٹیپ ٹاپ کرے جو اسے نہ دی گئی وہ فریب کے کپڑے بننے والے کی طرح ہے ۳؎(ترمذی،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎سبحان اللّٰه! کیسی پیاری و اعلٰی تعلیم ہے کہ برابر والا برابر والے کو عوض دے،فقیر امیر کو دعائیں دیں،ہم لوگ دن رات حضور انور پر درود شریف کیوں پڑھتے ہیں؟ اس لیے کہ ان داتا کریم کی نعمتوں میں پل رہے ہیں کہ کروڑوں حصہ بھی عوض نہیں دے سکتے تو دعائیں دیں کہاللّٰهان کا بھلا کرے،ان کا خانہ آباد،انکے بال بچوں،صحابہ کو شاد رکھے،یہ درود بھی اسی حدیث پر عمل ہے،مولانا فرماتے ہیں۔شعر
چونکہ ذاتش ہست محتاج الیہ زاں سبب فرمود حق
صلوا علیہ۲؎یعنی حمد و ثناء شکر کی ایک قسم ہے،شکر دلی بھی ہوتا ہے زبانی بھی،ارکانی بھی۔حمدوثناء زبانی شکریہ ہے جس سے اور زیادہ نعمتیں ملتی ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"لَئِنۡ شَكَرْتُمْ لَاَزِیۡدَنَّکُمْ"اگر شکر کرو گے اور زیادہ دوں گا۔
۳
؎یہ فرمان عالی اس عورت سے فرمایا گیا تھا جس نے عرض کیا تھا کہ میری سوکن ہے میں چاہتی ہوں کہ اسے جلانے کے لیے اعلٰی لباس،عمدہ زیور پہنا کروں تاکہ وہ سمجھے کہ مجھے یہ سب کچھ میرے خاوند نے دیا ہے اور وہ مجھ سے زیادہ محبت کرتا ہے اس پر یہ ارشاد ہوا۔فریب کے کپڑے کی کئی صورتیں ہیں:غریب آدمی غرور و تکبر کے طور پر امیروں کے کپڑے پہنے،جاہل شخص ریا کے طور پر علماء و صوفیاء کا لباس پہنے،فاسق آدمی دھوکے دینے کے لیے متقیوں کا سا لباس رکھے تاکہ اس کی جھوٹی گواہی حکام مان لیا کریں،یہ سب کچھ دھوکے فریب کے لیے ہو،(مرقات)ایسا آدمی بہروپیا ہے اور اس کی یہ حرکت بری ہے،اگر اچھی نیت سے علماء کا لباس پہنے تو اچھاکہ اچھوں کی نقل بھی اچھی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3023