Main Icon

باب : پچھلے باب کا تتمہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3024

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صُنِعَ إِلَيْهِ مَعْرُوفٌ فَقَالَ لِفَاعِلِهٖ : جَزَاكَ اللّٰهُ خَيْرًا فَقَدْ أَبْلَغَ فِي الثَّنَاءِ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن أسامة بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من صنع إليه معروف فقال لفاعله : جزاك الله خيرا فقد أبلغ في الثناء ". رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جس کے ساتھ کوئی بھلائی کی جائے وہ بھلائی کرنے والے سے کہہ دےاللّٰهتجھے جزا ئے خیر دے تو اس نے تعریف حد تک پہنچادی ۱؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں تو بدلہ سے عاجز ہوں،رب تعالٰی تجھے دین و دنیا میں اس سلوک کی جزاء خیر دے،اس مختصر سے جملہ میں اسکی نعمت کا اقرار بھی ہوگیا،اپنے عجز کا اظہار بھی اور اس کے حق میں دعائے خیر بھی۔شکریہ کا مقصد بھی یہ ہی ہوتا ہے،اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ دینے والے کی جھوٹی تعریف اور خوشامدانہ گفتگو نہ کرے،فاسق کو ولی نہ کہے،جاہل کو عالم نہ بتائے،فقیر کو شہنشاہ نہ کہے کہ جھوٹ بولنا گناہ بھی ہے اور بے فائدہ بھی، یوں ہی اگر کوئی تم سے بدسلوکی کرے تو اسے گالیاں نہ دو،برا بھلا نہ کہو بلکہ کہو "غَفراللّٰه لك واصلح حالك"اللّٰہتجھے بخشے اور تیری ا صلاح کرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3024