- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- نماز کا بیان
- حدیث نمبر 587
باب : جلدنمازپڑھنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 587
نماز کا بیان - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِيْ عَلٰى أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ، فَقَالَ لَهٗ أَبِيْ: كَيْفَ كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يُصَلِّي الْمَكْتُوْبَةَ؟ فَقَالَ: كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ الَّتِيْ تَدْعُونَهَا الأُولٰى حِيْنَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلٰى رَحْلِهٖ فِيْ أَقْصَى الْمَدِيْنَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَنَسِيْتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ، وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَن يُؤَخِّرَ الْعِشَاءَ الَّتِيْ تَدْعُونَهَا الْعَتَمَةَ، وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بعْدَهَا، وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ الرَّجُلُ جَلِيْسَهٗ وَيَقْرَأُ بِالسِتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ. وَفِي رِوَايَةٍ: وَلَا يُبَالِي بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ، وَلَا يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عن سيار بن سلامة قال: دخلت أنا وأبي على أبي برزة الأسلمي، فقال له أبي: كيف كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يصلي المكتوبة؟ فقال: كان يصلي الهجير التي تدعونها الأولى حين تدحض الشمس، ويصلي العصر ثم يرجع أحدنا إلى رحله في أقصى المدينة والشمس حية، ونسيت ما قال في المغرب، وكان يستحب أن يؤخر العشاء التي تدعونها العتمة، وكان يكره النوم قبلها والحديث بعدها، وكان ينفتل من صلاة الغداة حين يعرف الرجل جليسه ويقرأ بالستين إلى المائة. وفي رواية: ولا يبالي بتأخير العشاء إلى ثلث الليل، ولا يحب النوم قبلها والحديث بعدها. متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت سیارابن سلامہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں اور میرے والدحضرت ابی برزہ اسلمی کے پاس گئے ۲؎ان سے میرے باپ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرائض کیسے پڑھتے تھے وہ بولے کہ دوپہری کی نماز جسے تم پہلی کہتے ہو تب پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا ۳؎اورعصر پڑھتے پھر ہم میں سے ایک کنارہ مدینہ میں اپنے گھر پہنچ جاتا حالانکہ سورج صاف ہوتا ۴؎اورجوکچھ مغرب کے بارے میں فرمایاوہ میں بھول گیا اورآپ عشاءجسے تم عتمہ کہتے ہواسے دیرسے پڑھنے کوپسندفرماتے تھے ۵؎اور اس سے پہلے سونا اور اس کے بعد بات چیت ناپسند فرماتے تھے ۶؎اورنمازفجرسے جب فارغ ہوتے جب کہ آدمی اپنے پاس والے کوپہچان لیتاحالانکہ آپ ساٹھ سے سو آیتوں تک پڑھتے تھے ۷؎اور ایک روایت میں ہے کہ آپ عشاءکوتہائی رات تک تاخیر کرنے میں پروا نہ کرتے تھے اس سے پہلے سونا اوراس کے بعد بات چیت کرنا ناپسندفرماتے تھے۔(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎آپ مشہورتابعی ہیں،بصری،قبیلۂ بنی تمیم سے ہیں،بہت صحابہ سے ملاقات ہے۔
۲؎آپ کانام نفلہ ابن عبیدہے،صحابی ہیں،حضورکی وفات کے بعد مسلمان دور دور سے صحابہ کی زیارت کرنے،ان سے مسائل پوچھنےآیا کرتے تھے اس سلسلے میں آپ کی حاضری بھی تھی۔
۳؎یعنی ظہراول وقت پڑھ لیتے تھے،یہاں سردی کے زمانہ کی ظہرمراد ہے،ورنہ اگلی حدیث میں آرہا ہے کہ حضورنے فرمایاظہرٹھنڈی کروکیونکہ دوپہری کی گرمی دوزخ کی بھڑک سے ہے،لہذا یہ حدیث نہ اگلی حدیث سے متعارض ہے نہ حنفیوں کے خلاف۔
۴؎یعنی آفتاب ڈوبنے سے قریبًا پچاس منٹ پہلے اور پیلا پڑنے سے آدھا گھنٹہ پہلے عصر پڑھتے تھے،قریبًا دس منٹ میں نماز سے فراغت ہوتی تھی،چالیس منٹ میں انسان بخوبی مدینہ منورہ کے کنارے پہنچ سکتا ہے۔یہ فقیرآدھے گھنٹے میں پیدل مسجدقباءشریف پہنچ جاتاتھا،لہذا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضورایک مثل میں پڑھتے تھے یہ حدیث ہمارے خلاف نہیں۔
۵؎شریعت میں اس نماز کا نام عشاءہے مگر بدوی لوگ عتمہ کہتے ہیں یعنی اونٹنی دوھنے کے وقت کی نماز۔خیال رہے کہ نماز کے وہی نام لینے چاہئیں جو شریعت نے مقرر کئے،ظہرکو پیشی،عصرکو دیگر،مغرب کو شام،اورعشاء کو خفتَاں کہناجیسا کہ پنجاب میں مروج ہے برا ہے۔یہاں تاخیر سے مرادتہائی رات تک دیر لگاناہے،جیسا کہ دوسری روایات میں ہے۔
۶؎اس کی شرع پہلے گزر چکی۔بات سے دنیاوی غیرضروری باتیں مراد ہیں یہی مکروہ ہیں،لہذا دینی جلسے،دینی کتب کا مطالعہ عشاء کے بعدمنع نہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ عشاء کے بعد جلدی سوجاؤ صبح کوجلدی اٹھو۔
۷؎یعنی فجراتنی جلدی شروع کرتے کہ ساٹھ یاسو آیتیں پڑھ کرفارغ ہونے پر اتنا اجیالا ہوتا کہ ساتھی پہچان لیا جائے،یہ ان لوگوں کی دلیل ہے جن کے نزدیک فجراندھیرے میں پڑھنا مستحب ہے۔امام اعظم کے نزدیک یہ اندھیرا مسجدکاہوتاتھا نہ کہ وقت کاکیونکہ مسجد نبوی بہت گہری ہے،باہر کی روشنی وہاں بہت دیر میں پہنچتی ہے اور اگر مان لیا جائے کہ یہ وقت کا اندھیرا تھا تو یہ حضور کا خصوصی عمل ہے،فرمان آگے آرہا ہے کہ فرمایا فجر اجالاکرکے پڑھو کہ اس کا ثواب زیادہ ہے اورجب حضورکے فرمان وعمل شریف میں تعارض معلوم ہو تو فرمان کو ترجیح ہوتی ہے کیونکہ عمل میں احتمال ہے کہ آپ کی خصوصیات میں سے ہو۔خیال رہے کہ ایسی حدیث کوئی نہیں جس میں اندھیرے میں فجر پڑھنے کا حکم دیا گیا ہو مگر اجیالے کے حکم کی بہت حدیثیں موجودہیں،نیز عام صحابہ فجراجیالے میں ہی پڑھتے تھے۔حضرت علی قمبر سے فرمایا کرتے تھے اے قمبرخوب اجیالاکرو،خوب اجیالاکرو(طحاوی)صدیق اکبرجب فجر سے فارغ ہوتے تو محسوس ہوتا تھا کہ آفتاب نکلاچاہتا ہے۔(بیہقی)ابراہیم نخعی فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام کاجیسااتفاق فجروعصرکے اجیالے پرہے ایسا بہت کم مسائل پرہے۔(طحاوی وخسرو)فقیر نے "جاء الحق"حصہ دوم میں اجیالہ فجر کی انتیس ۲۹ احادیث پیش کی ہیں حتی کہ دیلمی کی روایت نقل کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجوفجرروشنی میں پڑھے اللہ اس کی قبراور دل میں روشنی کرے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 587