Main Icon

باب : جلدنمازپڑھنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 600

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "كَيْفَ أَنْتَ إِذَا كَانَتْ عَلَيْكَ أُمَرَاءُ يُمِيْتُونَ الصَّلَاةَ أَوْ يُؤَخِّرُونَ عَنْ وَقْتِهَا؟ " قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِيْ؟ قَالَ: "صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا مَعَهُمْ فَصَلِّ فَإِنَّهَا لَكَ نافِلَةٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي ذر قال: قال لی رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "كيف أنت إذا كانت عليك أمراء يميتون الصلاة أو يؤخرون عن وقتها؟ " قلت: فما تأمرني؟ قال: "صل الصلاة لوقتها فإن أدركتها معهم فصل فإنها لك نافلة". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت تمہاراکیاحال ہوگاجب تم پرایسے حکام مسلط ہوں گے جو نمازوں کو فوت کردیا کریں گے یا ان کے وقتوں سے پیچھے کردیاکریں گے ۱؎میں نےعرض کیا کہ مجھے آپ کیا حکم دیتے ہیں فرمایا کہ نماز اپنے وقت پر پڑھ لیاکرنااگران کے ساتھ بھی پالو تو پھرپڑھ لینا،کہ وہ تمہارے نفل ہوں گے۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس سے معلوم ہوا کہ اللہ نے حضورکو علوم غیبیہ بخشے۔دیکھو حضورنے اس جگہ ابوذرغفاری کی درازی عمر کی بھی خبردی اورآیندہ لاپرواہ حکام کے تسلط کی بھی،یعنی اے ابوذر!خلفائے راشدین کے بعدتم زندہ رہو گے اور ایسے بے پرواہ اور ظالم حکام کا زمانہ پاؤ گے کہ تم انہیں نمازبھی صحیح وقت پر نہ پڑھوا سکو گے۔
۲
؎اس جملے سے بہت سےفقہی مسائل معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جماعت کے لالچ میں نمازوقت مستحب سے نہ ہٹائی جائے بلکہ اکیلے پڑھ لی جائے۔دوسرے یہ کہ اگرحاکم صحیح وقت جماعت نہ ہونے دے تو مسجدمیں یا گھرمیں اپنی نمازعلیحدہ پڑھ لے جیساکہ آج حاجیوں کونجدی حکام کی وجہ سے پیش آتا ہے۔تیسرے یہ کہ اگر ظالم حاکم کے سامنے مجبورًا کلمۂ حق نہ کہہ سکے تو گنہگارنہیں۔چوتھے یہ کہ نماز پڑھ چکنے کے بعداگرجماعت ملے تو بہ نیت نفل اس میں شریک ہوجائے مگر یہ حکم صرف ظہروعشاءمیں ہے کیونکہ فجروعصر کے بعدنفل مکروہ ہیں اورمغرب کی تین رکعتیں ہیں۔پانچویں یہ کہ اگرظالم حاکم کے ساتھ نماز نہ پڑھنے میں ایذاءاورتکلیف پہنچ جانے کا اندیشہ ہوتومجبورًا ان کے پیچھے نماز پڑھ لے مگر نماز لوٹالے جیساکہ آجکل اہلِ سنت کو حرمین شریفین میں پیش آتا ہے۔چھٹے یہ کہ نفل والے کی نمازفرض والے کے پیچھے جائزہے۔ساتویں یہ کہ اگر بادشادہ کا مقررکردہ امام بدمذہب ہو اورکوئی سچا مسلمان ان کی جماعت کے وقت وہاں پھنس جائے تومعذوری کی حالت میں یہی کرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 600