Main Icon

باب : جلدنمازپڑھنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 595

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن بريدة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم-: "من ترك صلاة العصر فقد حبط عمله". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جونمازعصر چھوڑدے اس کے عمل ضبط ہو گئے ۱؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎غالبًاعمل سے مراد وہ دنیوی کام ہے جس کی وجہ سے اس نے نمازعصرچھوڑی۔ضبطی سے مراد اس کام کی برکت کا ختم ہوناہے،یایہ مطلب ہے کہ جوعصرچھوڑنے کاعادی ہوجائے اس کے لئے اندیشہ ہے کہ وہ کافرہوکر مرے جس سے اعمال ضبط ہو جائیں،اس کا مطلب یہ نہیں کہ عصرچھوڑناکفر وارتدادہے۔خیال رہے کہ نماز عصرکو قرآن کریم نے بیچ کی نماز فرماکر اس کی بہت تاکیدفرمائی،نیز اس وقت رات ودن کے فرشتوں کا اجتماع ہوتاہے اوریہ وقت لوگوں کی سیروتفریح اورتجارتوں کے فروغ کا وقت ہے،اس لئے اکثرلوگ عصر میں سستی کرجاتے ہیں ان وجوہ سے قرآن شریف نے بھی عصرکی بہت تاکیدفرمائی اورحدیث شریف نے بھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 595