Main Icon

باب : جلدنمازپڑھنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 616

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: مَكَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- صَلَاةَ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهٗ، فَلَا نَدْرِيْ أَشَيْءٌ شَغَلَهٗ فِيْ أَهْلِهٖ أَوْ غَيْرُ ذٰلِكَ ؟ فَقَالَ حِينَ خَرَجَ: "إِنَّكُمْ لَتَنْتَظِروْنِ صَلَاةً مَا يَنْتَظِرُهَا أَهْلُ دِيْنٍ غَيْرُكُمْ، وَلَوْلَا أَنْ يَثْقُلَ عَلٰى أُمَّتِيْ لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هٰذِهِ السَّاعَةَ" ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَلّٰى. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن عبد الله بن عمر قال: مكثنا ذات ليلة ننتظر رسول الله -صلى الله عليه وسلم- صلاة العشاء الآخرة، فخرج إلينا حين ذهب ثلث الليل أو بعده، فلا ندري أشيء شغله في أهله أو غير ذلك ؟ فقال حين خرج: "إنكم لتنتظرون صلاة ما ينتظرها أهل دين غيركم، ولولا أن يثقل على أمتي لصليت بهم هذه الساعة" ثم أمر المؤذن، فأقام الصلاة وصلى. رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ ہم ایک رات آخری عشاء کی نماز کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے ہوئے بہت بیٹھے ۱؎آپ تب تشریف لائے جب تہائی رات گزر گئی یا اس کے بھی بعدہمیں خبرنہیں کہ حضور کوکسی کام نے اپنے گھرمیں روک رکھایاکچھ اورسبب تھا۲؎جب تشریف لائے تو فرمایا کہ تم ایسی نماز کا انتظار کررہے ہوجس کا تمہارے سوا کوئی دین والا انتظار نہیں کررہا ہے ۳؎اگرمیری امت پرگراں نہ ہوتا تو میں ان کو یہ نماز اس ہی وقت پڑھایاکرتا ۴؎پھر مؤذن کو حکم دیا انہوں نے نمازکی تکبیرکہی اورنماز پڑھی۔(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎خیال رہے کہ نماز پڑھنابھی عباد ت اورنماز کا انتظاربھی،خصوصًا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظارکرنابہترین عبادت ہے۔اس سے صحابہ کا ادب معلوم ہوا کہ وہ حضرات کبھی حضورکو نہ پکارکربلاتے تھے نہ نمازیوں کے جمع ہوجانے کی خبردیتے تھے،وہ سمجھتے تھے کہ خبیرکوخبر دینا کیا،نیز قرآن کریم نے پکارکربلانے والوں کوبے عقل قراردیافرمایا ہے:"اِنَّ الَّذِیۡنَ یُنَادُوۡنَکَ"الخ۔صحابہ کرام حضورکونمازکے لئے جگاتے بھی نہ تھے۔
۲
؎کیونکہ نہ حضور نے دیرکی وجہ بتائی اور نہ بے ادبی کے خوف سے ہم نے پوچھی۔اس سے معلوم ہوا کہ مریدمرشدسے ہربات پوچھا نہ کرے صبرسے کام لیاکرے۔خضرعلیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا تھا کہ تم میرے کسی عمل پر سوال مت کرنا۔
۳
؎یعنی تمہارا یہ انتظاربھی عبادت ہے اور اس انتظار میں اب تک جاگنا،مسجد میں بیٹھنا،مشقت اٹھانا سب عبادت،اتنی عبادت کامجموعہ کسی نبی کونصیب نہیں ہوا۔اس حدیث کی بناءپربعض علماءفرماتے ہیں کہ عشاء عصر سے بھی افضل ہے۔
۴
؎معلوم ہورہاہے کہ بمقابلہ اوردن کے آج عشاءزیادہ دیر میں پڑھی گئی تھی،نماز پڑھانے سے مراد ان کو اس وقت پڑھنے کا حکم دیناہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 616