Main Icon

باب : جلدنمازپڑھنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 588

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: سَأَلْنَا جَابِرَ ابْنَ عَبْدِ اللّٰهِ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ، وَالْعِشَاءَ إِذَا كَثُرَ النَّاسُ عَجَّلَ، وَإِذَا قَلُّوا أَخَّرَ، وَالصُّبْحَ بِغَلَسٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن محمد بن عمرو بن الحسن بن علي قال: سألنا جابر ابن عبد الله عن صلاة النبي -صلى الله عليه وسلم ، فقال: كان يصلي الظهر بالهاجرة، والعصر والشمس حية، والمغرب إذا وجبت، والعشاء إذا كثر الناس عجل، وإذا قلوا أخر، والصبح بغلس. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت محمد ابن عمرو ابن حسن ابن علی سے فرماتے ہیں ہم نے جابر ابن عبداللہ سے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا فرمایاظہردوپہری میں پڑھتے تھے اور عصر جب کہ سورج صاف ہوتا اورمغرب جب کہ سورج ڈوب جاتاہے اورعشاءجب لوگ زیادہ ہوتے توجلدی پڑھ لیتے اورجب تھوڑے ہوتے تودیرمیں پڑھتے اورصبح اندھیرے میں ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس کی شرح پہلے گزرگئی۔اس حدیث سے معلوم ہواکہ اگر وقت میں گنجائش ہوتولوگوں کے اجتماع کاخیال رکھاجائے۔ریل کا سا وقت نہ ہو کہ نمازی ہوں یا نہ ہوں نماز پڑھ لی جائے۔دیکھوحضور)صلی اللہ علیہ وسلم (کا عمل کہ اگر لوگ کم ہوتے تو عشاء دیر سے پڑھتے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 588