Main Icon

باب : جلدنمازپڑھنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 607

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ فَرْوَةَ قَالَتْ: سُئِلَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "الصَّلَاةُ لِأَوَّلِ وَقْتِهَا". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: لَا يُرْوَى الْحَدِيثُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيِّ، وَهُوَ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ.

وعن أم فروة قالت: سئل النبي -صلى الله عليه وسلم-: أي الأعمال أفضل؟ قال: "الصلاة لأول وقتها". رواه أحمد والترمذي وأبو داود.وقال الترمذي: لا يروى الحديث إلا من حديث عبد الله بن عمر العمري، وهو ليس بالقوي عند أهل الحديث.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام فروہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیاکون سا عمل بہترہے فرمایا اول وقت نماز پڑھنا ۱؎(احمدوترمذی،ابوداؤد)ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث صرف عبداللہ ابن عمر عمری سے مروی ہے اوروہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی وقت مستحب کے اول نماز پڑھنا جیسا کہ بارہا عرض کیا جاچکا۔خیال رہے کہ بیان فضیلت میں حدیثیں مختلف ہیں۔بعض میں ہے کہ افضل عمل جہاد ہے،بعض میں ہے کہ بہترین عمل ماں باپ کی خدمت،مگران میں تعارض نہیں،کیونکہ مطلقًاافضلیتاول وقت نماز پڑھنے میں ہے،لیکن بعض ہنگامی حالات میں جہادیا خدمت والدین افضل ہوجاتی ہے۔ہوسکتا ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے یہ مختلف جوابات پوچھنے والوں کے لحاظ سے ہوں،کسی سے فرمایا کہ تیرے لئے جہاد افضل،کسی سے فرمایا تیرے لئے ماں باپ کی خدمت افضل،طبیب کا نسخہ مریض کی حالت کے لحاظ سے ہوتاہے۔
۲
؎ان کانام عبداللہ ابن عمرابن حفص ابن عاصم ابن عمر ابن خطاب ہے،بڑے عابدوزاہد،پرہیزگارتھے مگر حافظہ کسی قدرکمزورتھا، ۱۷۱ھمیں وفات ہوئی۔ان کے بھائی عبیداللہ ابن عمر بڑے ثقہ راوی تھے۔خیال رہے کہ یہ حدیث بہت اسنادوں سے مروی ہے،اس لئے حسن لغیرہ ہے(مرقاۃ واشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 607