Main Icon

باب : جلدنمازپڑھنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 603

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ نَسِيَ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَكَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا". وَفِي رِوَايَةٍ: "لَا كَفَّارَة لَهَا إِلَّا ذَلِك". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أنس قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من نسي صلاة أو نام عنها فكفارتها أن يصليها إذا ذكرها". وفي رواية: "لا كفارة لها إلا ذلك". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جونمازبھول جائے یااس سے غافل ہوکر سو جائے ۱؎تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب یاد آئے تو پڑھ لے ایک روایت میں ہے اس کاکفارہ اس کے سواءاورکچھ نہیں ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ یونہی لیٹا سونے کا ارادہ نہ تھا کہ آنکھ لگ گئی وقت نمازگزرجانے پرآنکھ کھلی تومعذورہے،لیکن اگرجان بوجھ کربغیر نمازپڑھے سوگیایارات کوبلاعذردیرسے سویاجس سے فجر کے وقت آنکھ نہ کھلی تومجرم ہے۔رب تعالٰی نیت وارادہ کوجانتاہے،اسی لئے بعد نمازعشاءجلدسوجانے کا حکم ہے لہذا اس حدیث سے آج کل کے فاسق نمازسے بے پرواہ دلیل نہیں پکڑ سکتے۔
۲
؎یعنی جیسے روزہ رہ جانے میں کبھی کفارہ پڑجاتاہے اورجیسے کبھی ارکان حج چھوٹ جانے پرکفارہ لازم آتا ہے ایسے نمازمیں نہ ہوگا اس میں صرف قضاءہے۔اِذَا ذَکَرَسے دو مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ چھوٹی ہوئی نمازاگرقطعًایادہی نہ آئے توآدمی گنہگارنہیں۔دوسرے یہ کہ یاد آجانے پردیرنہ لگائے فورًاقضا اداکرے اب دیر لگانا گناہ ہے کیونکہ زندگی کاکوئی بھروسہ نہیں تمام عبادات کا یہی حال ہے۔خیال رہے کہ یہاں صرف ذکر اوریادآجانے کا تذکرہ فرمایایہ بیداری کاذکرنہ ہوا کیونکہ قضاءیادآنے سے واجب ہوتی ہے نہ کہ محض جاگنے سے اگرجاگنے پریادنہ آئے قضا نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 603