Main Icon

باب : جلدنمازپڑھنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 622

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ قَبِيْصَةَ ابْنِ وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-:"يَكُوْنُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ مِنْ بَعْدِي يُؤَخِّرُوْنَ الصَّلَاةَ فَهِيَ لَكُمْ وَهِيَ عَلَيْهِمْ، فَصَلُّوْا مَعَهُمْ مَا صَلَّوُا الْقِبْلَةَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن قبيصة ابن وقاص قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-:"يكون عليكم أمراء من بعدي يؤخرون الصلاة فهي لكم وهي عليهم، فصلوا معهم ما صلوا القبلة". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت قبیصہ ابن وقاص سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بعد تم پر ایسے حکام ہوں گے جونمازمیں دیرلگایاکریں گے تو وہ تمہارے لئے مفید اوران پر وبال ہے ۱؎تم ان کے ساتھ نمازپڑھتے رہنا جب تک وہ کعبے کی طرف نمازپڑھیں ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس لئے کہ تم علیحدہ وقت مستحب میں نماز پڑھ چکوگے اوران کے ساتھ بہ نیت نفل شریک ہوکرڈبل ثواب پالو گے اور وہ فرض ہی ان مکروہ اوقات میں پڑھیں گے،لہذا تم نفع میں اور وہ نقصان میں رہیں گے۔اور اگر تم صحیح وقت پر الگ نماز نہ پڑھ سکے ان کے ساتھ ہی پڑھنے پرمجبور ہوئے تومعذوری کی وجہ سے تم گنہگار نہ رہوگے۔
۲
؎شرح اکبرمیں ملاعلی قاری نے فرمایا کہ ان جیسے مقامات میں کعبہ کی طرف نمازپڑھنے سے مرادصحیح العقیدہ مسلمان ہوناہے نہ کہ فقط نمازمیں کعبہ کو منہ کرلینا،اس زمانہ میں منافقین اورآج کل مرزائی،چکڑالوی وغیرہ مرتدین سب ہی نماز میں کعبہ کو منہ کرلیتے ہیں حالانکہ ان کی اقتداء میں نمازقطعًا باطل ہے۔جب گندے کپڑے والے کے پیچھے نمازنہیں ہوتی تو گندے عقیدے اور گندے دل والے کے پیچھے نمازکیسے ہوگی؟حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب تک ان حکام کے عقائدخراب نہ ہوں صرف عمل خراب ہوں تب تک ان کے پیچھے نمازپڑھ لو،اسی لئے فقہا فرماتے ہیں کہ فاسق کو امام بناؤ مت لیکن اگربن گیاہوتو اس کے پیچھے نمازپڑھ لو اس کا ماخذ یہ حدیث ہے۔خیال رہے کہ جوفاسق خود نمازمیں کسی حرام کا مرتکب ہورہا ہو تواس کے پیچھے نماز درست نہیں،اگر پڑھ لی تولوٹانا واجب ہے۔پہلے کی مثال جیسے چوروزانی کے پیچھے نماز کے وہ نماز میں یہ حرکتیں نہیں کررہا ہے۔دوسرے کی مثال جیسے داڑھی منڈے،ریشمیں یاطلائی کپڑے پہنے ہوئے یاشراب کے نشے میں مست کے پیچھے نماز،لہذا فقہاءکے فتاوےٰ میں اختلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 622