Main Icon

باب : جلدنمازپڑھنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 612

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَعْتِمُوْا بِهَذہ الصَّلَاةِ فَإِنَّكُمْ قَدْ فُضِّلْتُمْ بِهَا عَلٰى سَائِرِ الأُمَمِ، وَلَمْ تُصَلِّهَا أُمَّةٌ قَبْلَكُمْ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن معاذ بن جبل قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "أعتموا بهذہ الصلاة فإنكم قد فضلتم بها على سائر الأمم، ولم تصلها أمة قبلكم". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس نماز کو دیرسے پڑھاکروکیونکہ تم کو اس کی وجہ سے ساری امتوں پر بزرگی دی گئی کہ تم سے پہلے یہ نماز کسی امت نے نہ پڑھی ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی چونکہ نمازعشاءتم ہی کو ملی ہے اس لئے اسے دیر میں پڑھاکرو تاکہ تمہیں انتظارِ نماز کا ثواب ملے اور اس کے بعد زیادہ باتوں کا وقت نہ رہے فورًا سوجایاکرو۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور کی امت ساری امتوں سے افضل ہے۔اس فضیلت کی بہت سی وجوہ ہیں:جن میں سے ایک عشاء کا ملنا بھی ہے۔خیال رہے کہ نمازعشاء ہم سے پہلے کسی امت پر فرض نہ تھی،ہاں بعض نبی بطور نفل اسے پڑھتے رہے ہیں،لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں جس میں جبریل نے عرض کیا تھاکہ یہ اوقات آپ کے اور آپ سے پہلے انبیاء کی نمازوں کے وقت ہیں اور نہ اس روایت کے خلاف ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے وادی سینا سے آکر اپنی بیوی"صفوراء"کو بخیریت پاکرنمازعشاءپڑھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 612