Main Icon

باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4050

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ النبی ، خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "انْطَلِقُوْا إِلَى يَهُوْدَ"، فَخَرَجْنَا مَعَهٗ حتّٰى جِئْنَا بَيْتَ الْمِدْرَاسِ فَقَامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "يَا مَعْشَرَ يَهُوْدَ أَسْلِمُوْا تَسْلَمُوْا، اِعْلَمُوْا أَنَّ الأَرْضَ للّٰهِ وَلِرَسُوْلهِ،وَأَنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ مِنْ هٰذِهِ الأَرْضِ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ بِمَالِهٖ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن أبي هريرة قال: بينا نحن في المسجد النبی ، خرج النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "انطلقوا إلى يهود"، فخرجنا معه حتى جئنا بيت المدراس فقام النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "يا معشر يهود أسلموا تسلموا، اعلموا أن الأرض لله ولرسوله،وأني أريد أن أجليكم من هذه الأرض، فمن وجد منكم بماله شيئا فليبعه". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ جب ہم نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی مسجد میں تھے کہ حضور نے فرمایا یہود کی طرف چلو ۱؎چنانچہ ہم حضور کے ساتھ چلے حتی کہ ہم ان کے مدرسہ میں پہنچے تو ۲؎نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے قیام فرماکر فرمایا اے یہود کی جماعت اسلام قبول کرلو سلامت رہو گے ۳؎جان رکھو کہ زمین اللہ رسول کی ہے۴؎اور میں ارادہ کررہا ہوں کہ تم کو اس زمین سے جلا وطن کردوں ۵؎تو تم میں سے جو اپنا کچھ مال پائے تو اسے فروخت کردے ۶؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎تبلیغ کے لیے جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔
۲
؎مدارسیا تودرسسے بنا ہے یادراسۃوتدریسسے،بیت المدارسکے معنی سبق لینے تعلیم حاصل کرنے کا گھر،کبھی یہودیوں کے عالم کو بھی مدرس کہتے ہیں یعنی درس دینے والا،بعض روایا ت میں یوں ہےحتی اتی المدارس۔بہرحال اس سے مراد یا یہود کا دینی مدرسہ ہے یا ان کے پوپ پادری کاگھر جو مدینہ منورہ میں تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ تبلیغ کے لیے کفار کے گھروں ان مدرسوں ،خانقاہوں میں جانا سنت سے ثابت ہے۔
۳
؎یعنی آپ وہاں بیٹھے نہیں بلکہ کھڑے کھڑے ان سے یہ کلام فرمایا یا اس لیے کہ وعظ و خطبہ کھڑے ہوکر کرنا بہتر ہے یا اس لیے کہ آپ نے ان کفار کے ساتھ بیٹھنا پسند نہ فرمایا۔سلامت رہو گے کے معنی ہیں دین و دنیا کی آفات سے بچے رہو گے،اسلام اور نماز رحمانی قلعہ ہے جس میں داخل ہوکر انسان بہت سی آفات سے بچ جاتا ہے،اس کا بہت تجربہ ہے۔معلوم ہوا کہ تبلیغ نرمی سے کرنا بہتر ہے اور نذارت سے بشارت اعلیٰ کہ حضور انور نے انہیں اسلام لانے پر سلامتی کی بشارت دی۔
۴
؎ظاہر ہے کہارضسے مراد ساری زمین ہے اور مطلب یہ ہے کہ زمین مخلوق و مملوک رب تعالٰی کی ہے پھر اس کے مالک بنانے سے میری ملکیت ہے"اِنَّ الۡاَرْضَ لِلّٰہِ یُوۡرِثُہَا مَنۡ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ"۔اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ اللہ رسول کا ملا کر ذکر کرنا حرام نہیں اور یہ کہنا کہ ہم اللہ رسول کے ہیں دنیا و آخرت اللہ و رسول کی ہے شرک نہیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم تملیک الٰہی سے اللہ کی ہر چیز کے مالک ہیں۔شعر
خالق کل نے آپ کو مالک کل بنادیا دونوں جہاں ہیں آپ کے قبضہ و اختیار میں
۵
؎تاکہ زمین مدینہ تمہارے وجود نامسعود سے پاک ہوجائے اور یہاں صرف اسلام ہی رہے،ان یہود کی وجہ سے دن رات فتنے رہتے تھے،احزاب جیسی تکلیف مسلمانوں کو انہی یہود مدینہ کی وجہ سے پہنچی،ہمیشہ سلطنتیں اپنے ملک سے غداروں فتنہ گروں کو نکالتی ہیں، جرمنی کے ہٹلر نے یہودیوں کو جرمن سے نکالا تھا،اب بھی خاص مجرموں کو کالا پانی دیا جاتا ہے۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا یہود مدینہ بنی نضیر کو نکالنا حکم الٰہی سے تھا،چونکہ آپ خلیفۃ اللہ ہیں لہذا فرماتے ہیں کہ میں تم کو جلا وطن کرنا چاہتا ہوں۔
۶
؎بمالہکی ب بمعنیعنہے یعنی ہم تم کو ضبط مال کی سزا نہیں دیتے تم منقول مال ساتھ لے جاؤ اور غیر منقول مال فروخت کر کے قیمت حاصل کرلو۔خیال رہے کہ مدینہ منورہ میں یہود کے دو قبیلے آباد تھے بنی قریظہ اور بنی نضیر۔جب انہوں نے مسلمانوں کو مکمل مٹا دینے کی کوشش کی جس کی وجہ سے احزاب کا واقعہ پیش آیا تب حضور انو رنے بنی قریظہ کو تو قتل کرادیا اور بنی نضیر کو جلا وطن فرمادیا یہ گفتگو بنی نضیر سے ہے،یہ واقعہ ۴ھ؁ ∞ میں ہوا اور قتل بنی قریظہ ۵ھ؁ ∞ میں ہوا اور حضر ابوہریرہ ۷ھ؁ ∞ میں ایمان لائے۔اس حدیث کی بنا پر بعض علماء نے مجبور کی بیع جائز مانی۔خیال رہے کہ بیع مضطر اور ہے بیع مکرہ اور ہے،یہاں بیع مضطر ہوگی بیع مکرہ نہ ہوگی۔ بیع مکرہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی چیز فروخت کرنا نہ چاہے اسے مار پیٹ کر بیع کرالی جائے یہ بیع بالاتفاق ناجائز ہے۔خیال رہے کہ امام مالک کے ہاں کسی کافر کو ملک عرب میں رہنے کی اجازت نہیں، امام شافعی کے ہاں مکہ،مدینہ،یمامہ کے لیے یہ حکم ہے،نیز علماء فرماتے ہیں کہ کسی کافر کو حجاز میں آنے کی اجازت نہیں ہاں بطور سیر آئیں تو تین دن سے زیادہ وہاں قیام نہ کریں،اگر خفیہ طور پر آجائیں تو نکال دیئے جائیں،اگر وہاں مرکر دفن ہوجائیں تو ان کی نعش حجاز سے نکال دی جائے۔اما م اعظم کے ہاں کفار عارضی طور پر حجاز بلکہ حرم میں جاسکتے ہیں،اس کی پوری بحث کتب فقہ اور مرقات میں دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4050