Main Icon

باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4053

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ -رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ-، أَنَّهٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "لأُخْرِجَنَّ اليَهُوْدَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ حتّٰى لَا أَدَعَ فِيهَا إِلَّا مُسْلِمًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وَفِي رِوَايَةٍ: "لَئِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ لأُخْرِجَنَّ الْيَهُوْدَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ".

وعن جابر بن عبد الله قال: أخبرني عمر بن الخطاب -رضي الله عنه-، أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "لأخرجن اليهود والنصارى من جزيرة العرب حتى لا أدع فيها إلا مسلما". رواه مسلم.
وفي رواية: "لئن عشت إن شاء الله لأخرجن اليهود والنصارى من جزيرة العرب".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر ابن عبداللہ سے فرماتے ہیں مجھے عمر ابن خطاب نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ میں یہودیوں عیسائیوں کو جزیرہ عرب سے نکال دوں گا حتی کہ اس میں نہ چھوڑوں گا مگر مسلما ن کو ۱؎(مسلم)اور ایک روایت میں یوں ہے کہ اگر میں زندہ رہا توان شاءاﷲیہودو عیسائیوں کو جزیرہ عرب سے نکال دوں گا ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ہمارا ارادہ یہ ہے کہ عرب سے تمام دینوں کو نکال دوں،یہاں صرف مسلمان رہیں تاکہ یہ جگہ فتنہ و فساد کی نہ رہے صرف حج وعمرہ،زیارت اور ذکر الٰہی کے لیے رہے جہاں صرف عبادات ہوں سیاسی اڈہ اور فتنہ فساد کا اکھاڑہ نہ بنے۔
۲
؎حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کو یہود سے خالی کرالیا،اس طرح کہ وہاں کے یہودیوں میں سے بنی قریظہ کو قتل کردیا اور بنی نضیر کو جلا وطن فرمادیا،خیبر فتح فرمایا تو وہاں کے یہود کو عارضی طورپر کچھ روز رہنے سہنے کی اجازت دی،پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں وہاں سے بھی نکال دیا،اس طرح حضور انور کی یہ خواہش رب نے پوری فرمادی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4053