Main Icon

باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6108

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ عُمَرَ قَالَ: مَا أَحَدٌ أَحَقَّ بِهٰذَاالْأَمْرِ مِنْ هَؤُلَاءِ النَّفَرِ الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ فَسَمّٰى عَلِيًّا وَعُثْمَانَ وَالزُّبَيْرَ وَطَلْحَةَ وَسَعْدًا وَعَبْدَ الرَّحْمٰنِ . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

عن عمر قال: ما أحد أحق بهذاالأمر من هؤلاء النفر الذين توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عنهم راض فسمى عليا وعثمان والزبير وطلحة وسعدا وعبد الرحمن . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر سے فرمایا کہ اس خلافت کا زیادہ حقدار اس جماعت سے کوئی نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے وفات پائی حالانکہ حضور ان سے راضی تھے ۱؎تو حضرت علی، عثمان، زبیر، طلحہ،سعد اور عبدالرحمن کا نام لیا ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎عربی میںنفرتین سے دس تک کی جماعت کو کہتے ہیں۔حضور کے راضی ہونے سے مراد اعلیٰ درجہ کی رضا و خوشی ہے ورنہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم تمام صحابہ تمام اہل بیت سے راضی تھے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ اس فرمان فاروقی سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ افضل کے ہوتے ہوئے مفضول کو خلیفہ کرسکتے ہیں،دیکھو اس وقت حضرت عثمان و علی سب سے افضل تھے مگر جناب عمر نے اور حضرات کا نام بھی خلافت کے لیے لیا۔دوسرے یہ کہ خلافت چند طرح سے ہوسکتی ہے: (۱)خلیفہ خود کسی کو اپنا جانشین کردے جیسے حضرت صدیق نے عمر فاروق کو کیا(۲)مجلس شوریٰ کسی کو خلیفہ بنالے جیسے عثمان غنی کی خلافت۔ (مرقات) خلافت کے لیے ہاشمی یا معصوم ہونا شرط نہیں۔
۲
؎جب ابو لولو نے عین نماز فجر میں محراب النبی صلی اللہ علیہ و سلم میں حضرت عمر کو خنجر مارا آپ سخت زخمی ہوئے،صحت کی امید نہ رہی تو لوگوں نے عرض کیا کہ امیر المؤمنین کسی کو اپنا خلیفہ بنادیں تب آپ نے ان چھ بزرگوں کے نام لیے کہ ان میں سے کسی کو خلیفہ چن لینا۔خیال رہے کہ اس دس کی جماعت میں جناب صدیق اکبر پہلے وفات پاچکے تھے،آپ اب شہادت کا جام نوش کر رہے ہیں،حضرت ابو عبیدہ ابن جراح بھی وفات پاچکے تھے،رہے سعید ابن زید وہ حضرت عمر کے چچا زاد بھائی بھی تھے اور سگے بہنوئی بھی اس لیے اپنی قرابت کی بنا پر ان کا نام نہیں لیا جیسے اپنے صاحبزادہ حضرت عبداللہ ابن عمر کو کہیں عہدہ پر نہ لگایا نہ اس وقت ان کا نام لیا،آپ کی شہادت کے بعد حضرت عبدالرحمن ابن عوف نے ان پانچ حضرات سے کہا کہ تم میں سے بعض حضرات بعض کے حق میں خلافت سے دست بردار ہوجائیں کیوں کہ تم مع میرے چھ ہو اور خلیفہ بنے گا ایک تو حضرت زبیر نے کہا کہ میں علی کے حق میں دست بردار ہوتا ہوں،سعد ابن وقاص آپ کے حق میں طلحہ جناب عثمان کے حق میں دست بردار ہوگئے،اب چھ میں تین رہ گئے عثمان علی اور عبدالرحمن ابن عوف پھر عبدالرحمن نے حضرت عثمان و حضرت علی سے فرمایا کہ تم دونوں میں سے ایک دوسرے کے حق میں دست بردار ہوجائے مگر وہ دونوں خاموش رہے تو آپ نے کہا اے علی و عثمان تم مجھے اختیار دو کہ میں جسے چاہوں خلیفہ بنا دوں دونوں نے کہا ہاں آپ مختار ہیں پھر بہت تحقیق و تلاش کے بعد آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تنہائی میں بلا کر کہا کہ آپ کے فضائل روز روشن کی طرح عیاں ہیں اگر میں آپ کو خلیفہ بنادوں تو آپ عدل کرنا اگر عثمان کو بنادوں تو آپ ان کی اطاعت کرنا یہ ہی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا ان دونوں نے وعدہ کیا،پھر عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہاتھ پھیلائیے میں تمہارے ہاتھ میں بیعت کرتا ہوں پھر سب لوگوں نے اور حضرت علی نے جناب عثمان سے بیعت کرلی اس کا پورا واقعہ مرقات،اشعۃ اللمعات اور کتب تواریخ میں ملاحظہ کرو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6108