Main Icon

باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6120

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللّٰهِ عُمَرُ وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَقْرَؤُهُمْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَرُوِىَ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ قَتَادَةَ مُرْسَلًا وَفِيهِ: وَأَقْضَاهُمْ عَلِيٌّ

وعن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: أرحم أمتي بأمتي أبو بكر وأشدهم في أمر الله عمر وأصدقهم حياء عثمان وأفرضهم زيد بن ثابت وأقرؤهم أبي بن كعب وأعلمهم بالحلال والحرام معاذ بن جبل ولكل أمة أمين وأمين هذه الأمة أبو عبيدة بن الجراح رواه أحمد والترمذي وقال: هذاحديث حسن صحيح وروى عن معمر عن قتادة مرسلا وفيه: وأقضاهم علي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا کہ میری امت میں میری امت پر بہت رحیم و کریم ابوبکر ہیں اور الله کی راہ میں سب سے زیادہ سخت عمر ہیں اور ان سب میں سچے جہاد والے عثمان ہیں اور زیادہ علم فرائض دان زید ابن ثابت ۱∞؎سب میں بڑے قاری ابی ابن کعب ہیں ۲؎حرام و حلال کو بہت جاننے والے معاذ ابن جبل ہیں ۳؎ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے اس امت کے امین ابو عبیدہ ابن جراح ہیں ۴؎(احمد،ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن ہے صحیح ہے اور معمر نے قتادہ سے مرسلًا روایت کی اس میں یہ ہے کہ سب سے بڑھ کر فیصلہ فرمانے والے علی ہیں ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎حضرت زید ابن ثابت گیارہ برس کی عمر میں ایمان لائے آپ علم فرائض(میراث)کے امام ہیں،آپ اس جماعت کے امیر تھے جس نے خلافت صدیقی و عثمانی میں قرآن جمع کیا،بہت مخلوق نے آپ سے روایات لیں،چھپن سال عمر پائی، ۴۵ھ؁ ∞ پینتالیس میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔(مرقات)
۲
؎ابی ابن کعب انصاری خزرجی ہیں،حضور صلی الله علیہ و سلم کے زمانہ میں چھ شخصوں نے قرآن مجید حفظ کیا ان میں ایک آپ ہیں،آپ کی کنیت ابو المنذر ہے،حضورصلی الله علیہ و سلم نے آپ کو سید الانصار کا لقب دیا،آپ علم تجوید (قراءت) کے امام ہیں، ۱۹؁ ∞ انیس میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔(مرقات)
۳
؎یعنی معاذ ابن جبل بڑے فقیہ ہیں،آپ کی کنیت ابو عبدالله ہے،انصاری خزرجی ہیں،آپ ان ستر انصاریوں میں سے ہیں جنہوں نے حضورصلی الله علیہ و سلم کے ہاتھ پر بیعت عقبہ کی،بدر اور تمام غزوات میں شامل ہوئے،حضورصلی الله علیہ و سلم نے آپ کو یمن کا قاضی بنایا پھر حضرت عمر نے جناب ابوعبیدہ کے بعد آپ کو شام کا حاکم مقرر کیا،اس سال امواس کی طاعون میں آپ کی وفات ہوئی یعنی ۱۸؁ ∞اٹھارہ میں کل اڑتیس سال عمر ہوئی۔(مرقات)
۴
؎ابو عبیدہ ابن جراح بڑے زاہد تارک الدنیا صحابی ہوئے ہیں،جب حضرت عمر شام سے واپس ہوئے تو لشکروں کے آفیسران آپ سے ملنے آئے آپ نے پوچھا میرے بھائی ابوعبیدہ کہاں ہیں تھوڑی دیر میں ابو عبیدہ بھی آگئے،حضرت عمر آپ سے گلے ملے اور فرمایا کہ میں تمہارے گھر ٹھہروں گا دیکھا تو ایک جھونپڑہ ہے جس میں سامان صرف تلوار ڈھال اور زین ہے،حضرت عمر نے فرمایا کہ کل سامان خانہ یہ ہی ہے عرض کیا مجھے میری منزل تک یہ ہی پہنچادے گا،فرمایا کچھ روٹی کھلاؤ تو آپ نے اپنے تھیلے سے کچھ سوکھے ٹکڑے نکال کر پیش کیے حضرت عمر بہت روئے اور فرمایا اے ابو عبیدہ تم کو دنیا اپنے میں پھنسا نہ سکی یہ تھے اسلام کے جرنیل اعظم۔آپ ساتویں دادا میں حضور سے مل جاتے ہیں،آپ خلافت فاروقی میں طاعون امواس میں فوت ہوئے، آپ پر نماز معاذ ابن جبل نے پڑھائی۔
۵
؎یعنی مقدمات کا فیصلہ کرنے کے علم میں حضرت علی سب سے اعلیٰ و افضل ہیں اس لیے حضرت عمر آپ کی رائے لیے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرتے تھے،آپ کو حضور نے یمن کا گورنر بنایا تھا آپ کے فیصلے بہت عجیب عجیب مشہور ہیں۔خیال رہے کہ اس حدیث میں ہر جگہ اسم تفضیل ارشاد ہوا ہے جس میں بتایا گیا کہ یہ تمام صفات دیگر صحابہ میں بھی موجود ہیں مگر فلاں صحابی میں فلاں صفت کامل تر ہے۔اس فرمان عالی میں حضرت علی کے بہت سے فضائل ہیں کیونکہ صحیح فیصلے وہ ہی کرسکے گا جس کا علم کامل ہو،اسے اپنے نفس پر پورا اعتماد ہو،طبیعت میں اجتہادی ملکہ ہو یہ تمام صفات حضرت علی میں تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6120