Main Icon

باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6111

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يَأْتِي بَنِي قُرَيْظَةَ فَيَأْتِينِي بِخَبَرِهِمْ؟ فَانْطَلَقْتُ فَلَمَّا رَجَعْتُ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ فَقَالَ: فِدَاكَ أَبِيْ وَأُمِّيْ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن الزبير قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من يأتي بني قريظة فيأتيني بخبرهم؟ فانطلقت فلما رجعت جمع لي رسول الله صلى الله عليه وسلم أبويه فقال: فداك أبي وأمي . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زبیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بنی قریظہ کے پاس کون جائے گا جو ان کی خبر لائے ۱∞؎میں چل دیا پھر جب میں لوٹا تو میرے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ماں باپ دونوں جمع فرما دئیے کہ فرمایا تم پر میرے ماں باپ فدا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎غالبًا یہ واقعہ بھی غزوہ احزاب ہی کا ہے اسی غزوہ میں یہود مدینہ نے بغاوت کردی تھی،کفار مکہ سے انہوں نے یہ ساز باز کی تھی کہ باہر سے تم مدینہ پر حملہ کرو اندرون مدینہ ہم اور مسلمانوں کو دانہ کی طرح پیس کر رکھ دو،حضور انور کے حکم کے مطابق حضرت زبیر دوبارہ تفتیش کے لیے باہر گئے ایک بار کفار مکہ کا حال دیکھنے دوسری بار بنی قریظہ کا حال دیکھنے۔بعض نے فرمایا کہ یہ فرمان عالی غزوہ بنی قریظہ میں ہوا جب کہ بنی قریظہ اپنے قلعوں میں چھپ گئے تھے حضور نے ان کا محاصرہ فرمایا،یہ غزوہ بھی ۵ھ؁ ∞میں ہوا خندق کے متصل۔
۲
؎اس موقعہ پر حضور نے حضرت زبیر سے یہ فرمایا اور غزوہ احد میں حضرت سعد ابن ابی وقاص سے یہ ہی فرمایا تھافداك ابی و امی۔خیال رہے کہ میں فدا میرے ماں باپ فدا انتہائی محبت و عظمت ظاہر کرنے کے لیے کہے جاتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6111