Main Icon

باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6110

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ يَوْمَ الْأَحْزَابِ؟ قَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيَّاً وحَوَاريَّ الزبيرُ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن جابر قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: من يأتيني بخبر القوم يوم الأحزاب؟ قال الزبير: أنا فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إن لكل نبي حواريا وحواري الزبير (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب کے دن فرمایا کہ قوم کی خبر کون لائے گا ۱∞؎تو جناب زبیر نے عرض کیا میں ۲؎تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کے مخلص دوست ہوتے ہیں اور میرے مخلص دوست زبیر ہیں۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎احزاب غزوہ خندق کا نام ہے جو ۵؁ ∞ ہجری میں ہوا،اسے غزوہ احزاب اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں ہر قسم کے کفار نے جمع ہو کر مدینہ منورہ پر چڑھائی کی تھی۔احزاب جمع ہے حزب کی بمعنی گروہ یا ٹولہ۔حضور انور نے کفار کی کثرت دیکھ کر فرمایا تھا کہ مدینہ کے اردگرد خندق کھود دو تاکہ وہ ہر طرف سے مدینہ منورہ میں داخل نہ ہوسکیں اور خندق کے دروازہ پر پہرہ رکھو اس لیے اسے غزوہ خندق بھی کہتے ہیں۔کفار نے بہت دن تک مدینہ منورہ کا سخت محاصرہ رکھا ایک دن حضور نے خبر دی تھی کہ آج رات سخت آندھی آوے گی جو کفار کی جماعتوں کو تتر بتر کردے گی چنانچہ رات کو آندھی آئی سخت سردی تھی تب حضور انور نے رات میں فرمایا کہ کون ہمت کرے گا کہ کفار کے لشکر کی تحقیق کرکے آئے کہ ان کا کیا حال ہوا وہ تتر بتر ہوگئے یا کچھ باقی ہیں۔
۲
؎اس رات سردی اس قدر تھی کہ ادھر جانے کی بلکہ گھر سے نکلنے کی کسی کو ہمت نہ پڑتی تھی،اس وقت حضرت زبیر کا جرأت کرنا بہت بڑی خدمت تھی۔خیال رہے کہ حضرت زبیر ابن عوام قرشی ہیں،ان کی والدہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی پھوپھی صفیہ بنت عبدالمطلب ہیں لہذا آپ حضور کے پھوپھی زاد بھائی ہیں اور بی بی اسماء بنت ابوبکر کے خاوند ہیں تو حضور کے سنڈھو ہوئے،سولہ سال کی عمر میں ایمان لائے،آپ کے چچا نے آپ کو دھوئیں میں بند کردیا تاکہ گھبرا کر اسلام چھوڑ دیں مگر آپ ایمان پر قائم رہے،آپ کو جنگ جمل میں عمرو ابن جرموز نے قتل کیا، ۳۶؁ ∞میں آپ کی عمر چونسٹھ سال ہوئی،وادی سباع میں دفن کیے گئے،پھر عرصہ کے بعد بصرہ میں نعش شریف لائی گئی وہاں دفن کیے گئے۔(مرقات)اس حقیر نے قبر شریف کی زیارت کی ہے۔
۳
؎حواریبنا ہےحورسے بمعنی صفائی یا سفیدی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر پہلے کچھ دھوبی ایمان لائے آپ کی بہت خدمت کی انہیں حواری کہا جاتا ہے،اب ہرمخلص دوست کو حواری کہا جاتا ہے وہ ہی یہاں مراد ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6110