Main Icon

باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6132

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَن حُذَيْفَة قَالَ: جَاءَ أَهْلُ نَجْرَانَ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ ابْعَثْ إِلَيْنَا رَجُلًا أَمِينًا. فَقَالَ: «لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ» فَاسْتَشْرَفَ لَهَا الناسُ قَالَ: فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ. مُتَّفَقٌ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن حذيفة قال: جاء أهل نجران إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا: يا رسول الله ابعث إلينا رجلا أمينا. فقال: «لأبعثن إليكم رجلا أمينا حق أمين» فاستشرف لها الناس قال: فبعث أبا عبيدة بن الجراح. متفق (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں کہ نجران والے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۱∞؎عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ و سلم ہمارے پاس ایک امین آدمی بھیجیں ۲؎تو فرمایا کہ میں تمہارے پاس ایسا امین بھیجوں گا جیسا چاہیے ویسا امین ہے۳؎لوگوں نے اس کا انتظار کیا فرمایا کہ حضور نے ابو عبیدہ ابن جراح کو بھیجا۔(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎نجران تین بستیوں کا نام ہے: یمن کا ایک شہر جو ۱۰؁ ∞ دس ہجری میں فتح ہوا،یہ جگہ نجران ابن زید ابن سبا کے نام پر آبادہوئی،دوسرا نجران جو علاقہ حوران میں واقع ہے دمشق کے قریب،تیسرے عراق کا نجران جو کوفہ کے پاس ہے، یہاں پہلا نجران مراد ہے وہاں کے لوگ ہی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے تھے۔(مرقات)
۲
؎امین کے معانی پہلے بیان کیے جاچکے ہیں یعنی ایسا امانت دار آدمی ہمارے علاقہ میں بھیجیں جو ہمارا قاضی امیر اور معلم ہو۔
۳
؎حق امین کا مطلب ہے کہ نہایت ہی اعلٰی درجہ کا امین ہے جیسےکہا جاتا ہے کہ زید جیسا عالم ہونے کا حق ہے ویسا عالم ہے، سارے صحابہ امانت والے ہیں مگر حضرت حذیفہ اول نمبر امانت دار۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6132