Main Icon

باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6117

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلٰى حِرَاءٍ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ فَتَحَرَّكَتِ الصَّخْرَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اهْدَأْ فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ .وَزَادَ بَعْضُهُمْ: وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَلَمْ يَذْكُرْ عَلِيًّا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان على حراء هو وأبو بكر وعمر وعثمان وعلي وطلحة والزبير فتحركت الصخرة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اهدأ فما عليك إلا نبي أو صديق أو شهيد .وزاد بعضهم: وسعد بن أبي وقاص ولم يذكر عليا. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کوہ حراء پر تھے اور ابوبکر و عمر اور عثمان و علی طلحہ اور زبیر تھے کہ پتھرکی چٹان ہلی ۱∞؎رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ ٹھہر جا نہیں ہیں تجھ پر مگر نبی یا صدیق یا شہید ۲؎بعض محدثین نے یہ زیادہ کیا کہ سعد ابن ابی وقاص بھی تھے اور حضرت علی کا ذکر نہیں کیا ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎حراء شریف یعنی جبل نور کی یہ حرکت وجدانی تھی اس فخر میں کہ آج مجھ پر ان حضرات کے قدم ہیں جن کا درجہ عرش الٰہی سے بھی زیادہ ہے۔معلوم ہوا کہ پتھر بھی حضور صلی الله علیہ و سلم بلکہ انکے صحابہ کو جانتے پہچانتے ہیں ان سے محبت کرتے ہیں،جس دل میں ان حضرات سے الفت نہ ہو وہ پتھر سے زیادہ سخت ہے۔
۲
؎یہاںاوبمعنی واؤ ہے اور شہید سے مراد جنسی شہید ہے کیونکہ یہ پانچ حضرات سب ہی شہید ہیں حضرت عمر،عثمان، علی کی شہادت تو دنیا میں مشہور ہے،حضرت طلحہ اور زبیر کی شہادت جنگ جمل کے موقعہ پر ہوئی جب کہ یہ دونوں حضرات جنگ سے علیحدہ ہوچکے تھے،حضرت زبیر تو وادی السباع میں قتل کیے گئے وہاں سے بصرہ لاکر دفن کیے گئے، حضرت طلحہ جنگ سے الگ ہوگئے پھر بھی قتل کیے گئے۔(مرقات)
۳
؎حضرت سعد ابن ابی وقاص شرعی شہید نہ ہوئے بلکہ اپنے گھر میں آپ کی وفات ہوئی گھر وادی عقیق میں تھا،وہاں سے مدینہ منورہ آپ کی نعش لائی گئی جنت البقیع میں دفن کی گئی مگر چونکہ آپ کی وفات کسی ایسے مرض سے ہوئی جس میں موت شہادت ہوتی ہے اس لیے آپ کو شہید کہا گیا۔(اشعہ،مرقات)پیٹ کی بیماری،طاعون کی بیماری سے مرنے والا حکمًا شہید ہوتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6117