Main Icon

باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6115

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لكل أمة أمين وأمين هذه الأمة أبو عبيدة بن الجراح. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ ہر امت کا کوئی امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابو عبیدہ ابن جراح ہیں ۱∞؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ہر امت میں بعض لوگ ایسے گزرے ہیں کہ ان پر قوم پورا پورا بھروسہ کرتی تھی سب کو ان پر اعتماد تھا،ثقہ اور قوم میں پسندیدہ تھے،میری امت میں ان صفات کے ایسے مظہر حضرت ابو عبیدہ ہیں جو الله تعالٰی اور مخلوق اور اپنے نفس کے حقوق پورے پورے ادا کرتے ہیں ان میں کسی قسم کی خیانت نہیں کرتے۔خیال رہے کہ یہ صفات تمام صحابہ میں تھیں مگر حضرت ابوعبیدہ میں علی وجہ الکمال تھیں اور حضرت ابو عبیدہ میں امانت داری کے سواء اور بہت صفات تھیں مگر یہ صفات نمایاں تھی اس لیے فرمایا کہ اس امت کے امین ابو عبیدہ ہیں لہذا اس سے نہ تو یہ لازم ہے کہ باقی صحابہ امین نہ تھے،نہ یہ کہ جناب ابوعبیدہ میں سوائے امانت داری کے اور کوئی صفت نہ تھی۔حضرت ابو عبیدہ نے ۱۸؁ ∞ اٹھارہ میں ملک شام میں وفات پائی،عمر شریف اٹھاون سال ہوئی،عہد فاروقی میں وفات ہوئی،آپ مسلمانوں کے جرنیل اعظم تھے،آپ کی حتی الامکان کوشش یہ ہوتی تھی کہ جہاد میں مسلمانوں کا خون کم سے کم بہے اور زیادہ سے زیادہ فتح ہو،جب حضرت عمر نے حضرت خالد بن ولید کو معزول کرکے آپ کو سپہ سالار بنایا تو آپ نے بیس روز تک حضرت خالد کو اس کی خبر ہی نہ دی،سپاہیانہ شان سے کام کرتے رہے،دوسروں سے ان کو پتہ چلا کہ میں معزول ہوچکا رضی الله عنہما۔(مرقات)جب نجران کے لوگوں نے حضور سے عرض کیا کہ آپ ہمارے ہاں کوئی اپنا امین بھیج دیں تو حضور انور نے فرمایا کہ میں ایسا امین بھیجوں گا جیساکہ چاہیے،سب صحابہ منتظر رہے کہ ہم بھیجے جاویں مگر حضرت ابوعبیدہ کو بھیجا گیا۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6115