Main Icon

باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6123

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: سَمِعْتُ أُذُنِي مِنْ فِي رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: طَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ جَارَايَ فِي الْجَنَّةِ .رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ

وعن علي قال: سمعت أذني من في رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: طلحة والزبير جاراي في الجنة .رواه الترمذي وقال: هذاحديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ میرے کانوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے ۱∞؎سنا کہ طلحہ اور زبیر میرے جنت کے پڑوسی ہیں ۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث مختلف الفاظ سے ابن ماجہ،ابن عساکر وغیرہم نے روایت کی،ریاض میں ہے کہ طلحہ کے بیٹے موسیٰ ابن طلحہ امیر معاویہ کے پاس پہنچے تو جناب امیر معاویہ نے ان سے فرمایا کیا میں تم کو خوشخبری نہ دوں میں نے حضور کو فرماتے سنا کہ طلحہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنی نذر موت پوری فرمادی۔(مرقات)
۲
؎یعنی دونوں حضرات جنت میں مجھ سے بہت ہی قریب ہوں گے،پڑوسی قریب ہی ہوتا ہے قریب ہی رہتا ہے۔اس فرمان عالی میں ان دونوں حضرات کے مؤمن متقی ہونے،ان کا خاتمہ بالخیر،قبر کے امتحان میں کامیابی،محشر میں نجات، پل صراط سے بخیریت گزرنا،جنت میں داخلہ،وہاں کا مقام سب ہی بتادیا گیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6123