Main Icon

باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5284

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ التَّقِيَّ الْغَنِيَّ الْخَفِيَّ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَذُكِرَ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ: "لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَيْنِ" فِي (بَاب فَضَائِل الْقُرْآن).

عن سعد قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن الله يحب العبد التقي الغني الخفي". رواه مسلم. وذكر حديث ابن عمر: "لا حسد إلا في اثنين" في (باب فضائل القرآن).

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعد سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ الله تعالٰی پرہیزگار بے نیاز پوشیدہ بندے کو پسند فرماتا ہے۔(مسلم)اور حضرت ابن عمر کی حدیث کہ نہیں ہے رشک۲؎مگر دو چیزوں میں فضائل قرآن کے باب میں بیان کردی گئی۳؎

شرح حدیث

۱∞؎سعد سے مراد حضرت سعد ابن ابی وقاص ہیں۔محدثین جب عبدابولتے ہیں تو حضرت عبداابن مسعود مراد ہوتے ہیں اور جب سعد مطلق بولتے ہیں تو سعد ابن ابی وقاص مراد ہوتے ہیں۔
۲
؎یعنی جس مسلمان میں تین صفتیں ہوں وہ خدا تعالٰی کو بڑا پیارا ہے: متقی ہو یعنی گناہوں سے بچتا ہو اور ارسول کے احکام پر عمل کرتا ہو،غنی یعنی لوگوں سے بے پرواہ ہو۔خیال رہے کہ الله تعالٰی متقی بندے کو لوگوں سے بے پرواہی نصیب فرماتا ہے،جو اس کے دروازے پر جھکا رہے اسے دوسرے دروازوں پر جانے کی ضرورت نہیں پڑتی؎یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ہزارسجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجاتخفینقطہ والا خ سے بمعنی لوگوں میں چھپا ہوا یعنی وہ لوگوں میں اپنی شہرت نہیں چاہتا ہر نیکی چھپ کر کرتا ہے،خود بھی گمنام رہنے کی کوشش کرتا ہے کہ اسی میں عافیت و آرام ہے۔خیال رہے کہ بعض بندوں کے لیے خلوت اچھی ہے بعض کے لیے جلوت بہتر،عابدوں کے لیے خلوت بہتر ہے عالموں کے لیے جلوت اچھی تاکہ لوگ ان سے فیض لیں لہذا اس حدیث کی بنا پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ حضرات خلفاء راشدین اور دوسرے مشہور علماء واولیاء حتی کہ حضور سید الانبیاءصلی الله علیہ وسلم الله کے محبوب بندے ہیں مگر وہ چھپے ہوئے نہیں کیونکہ ان حضرات نے خود اپنے کو اپنی کوشش سے مشہور نہیں کیا ان کی یہ شہرت الله تعالٰی کی طرف سے ہے،نیز ان حضرات کے لیے شہرت ہی ضروری تھی،سورج چھپنے کے لیے نہیں پیدا ہوا۔مصرع کہ دنیا میں خدا کا نور چھپنے کو نہیں آیا۔بعض نسخوں میںحفیہے بے نقطہ والی ح سے بمعنی مہربان یعنی لوگوں پر مہربان،بعض احادیث میںنقینون سے بھی ہے یعنی طیب و طاہر پاک و صاف۔ (اشعہ)اس حدیث کی اور بہت شرحیں کی گئیں ہیں۔
۳
؎یعنی وہ حدیث مصابیح میں یہاں تھی ہم نے مناسبت کے لحاظ سے وہاں بیان کردی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5284