Main Icon

باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5294

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَمِيرَةَ -وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: إِنَّ عَبْدًا لَوْ خَرَّ عَلَى وَجْهِهِ مِنْ يَوْمَ وُلدَ إِلَى أَنْ يَمُوتَ هَرِمًا فِي طَاعَةِ اللَّهِ لَحَقَّرَهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ، وَلَوَدَّ أَنَّهُ رُدَّ إِلَى الدُّنْيَا كَيْمَا يَزْدَادَ مِنَ الأَجْرِ وَالثَّوَابِ. رَوَاهُمَا أَحْمَدُ.

وعن محمد بن أبي عميرة -وكان من أصحاب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: إن عبدا لو خر على وجهه من يوم ولد إلى أن يموت هرما في طاعة الله لحقره في ذلك اليوم، ولود أنه رد إلى الدنيا كيما يزداد من الأجر والثواب. رواهما أحمد.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت محمد ابن ابو عمیرہ سے ۱؎یہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے تھے،حضور نے فرمایا کہ اگر کوئی بندہ اپنی پیدائش کے دن سے اپنے چہرے کے بل گر جاوے حتی کہ الله کی اطاعت میں بوڑھا ہوکر مرجاوے ۲؎تو اس دن اس عبادت کو حقیر سمجھے گا ۳؎اور تمنا کرے گا کہ دنیا میں لوٹایا جاوے تاکہ اجروثواب اور زیادہ کرے۴؎دونوں حدیثیں احمد نے روایت کیں۔

شرح حدیث

۱∞؎چونکہ محمد ابن ابو عمیرہ کی صحابیت مشہور نہ تھی اس لیے راوی نے یہ کہہ دیا کہ آپ حضور کے صحابی تھے،آپ کے حالات معلوم نہ ہوسکے۔(اشعہ)
۲
؎یہ فرضی صورت ہے جس سے بہت بڑا مسئلہ حل فرمایا گیا ہے یعنی فرض کرلو کہ کوئی شخص پیدا ہوتے ہی عبادت میں ایسا مشغول ہوجائے کہ کبھی کوئی کام نفس کے لیے نہ کرے اور اسی حال میں بوڑھا ہوکر مرجائے۔چہرے کے بل گر جانے کا مطلب ہے عبادات میں مشغول ہوجائے،ممکن ہے کہ اس سے سجدہ میں گرجانا مراد ہو بہرحال مطلب ظاہر ہے۔
۳
؎یعنی یہی کہے گا کہ میں نے کچھ نہ کیا اور موقعہ ملتا تو اور کچھ کرلیتا؎کچھ نہ کیا مگر چلا عمر کو مفت کھوچلا عرض ہے تم سے یا شہا میری طرف کو دیکھنا
۴
؎یعنی عبادات ریاضات کے لیے دنیا میں پھر بھیج دیا جاوے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں فرمایا گیا کہ جسے رب تعالٰی بخش دے گا وہ دنیا میں لوٹنے کی تمنا نہ کرے گا کہ وہاں مطلب یہ ہے کہ یہاں رہنے سہنے یہاں کے عیش کرنے کے لیے یہاں آنے کی تمنا نہ کرے گا یہ آرزو دوسرے مقصد کے لیے ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5294