Main Icon

باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5287

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي كَبْشَةَ الأَنْمَارِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "ثَلَاثٌ أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ وَأُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا فَاحْفَظُوهُ، فَأَمَّا الَّذِي أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ فَإِنَّهُ مَا نَقَصَ مَالُ عَبْدٍ مِنْ صَدَقَةٍ،وَلَا ظُلِمَ عَبْدٌ مَظْلِمَةً صَبَرَ عَلَيْهَا إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا عِزًّا، وَلَا فَتَحَ عَبْدٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ، وَأَمَّا الَّذِي أُحَدِّثُكُمْ فَاحْفَظُوهُ" فَقَالَ: "إِنَّمَا الدُّنْيَا لِأَرْبَعَةِ نَفَرٍ: عَبْدٌ رَزَقَهُ اللَّهُ مَالًا وَعِلْمًا فَهُوَ يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ وَيَصِلُ رَحِمَهُ وَيَعْمَلُ لِلَّهِ فِيهِ بِحَقِّهِ، فَهَذَا بِأَفْضَلِ الْمَنَازِلِ،وَعَبدٌ رَزَقَهُ اللَّهُ عِلْمًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ مَالًا فَهُوَ صَادِقُ النِّيَّةِ يَقُولُ: لَوْ أَنَّ لِي مَالًا لَعَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ، فَأَجْرُهُمَا سَوَاءٌ، وَعَبْدٌ رَزَقَهُ اللَّهُ مَالًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ عِلْمًا فَهُوَ يَتَخَبَّطُ فِي مَالِهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ، لَا يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ، وَلَا يَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ، وَلَا يَعْمَلُ فِيهِ بِحَقٍّ، فَهَذَا بِأَخْبثِ الْمَنَازِلِ، وَعَبْدٌ لَمْ يَرْزُقْهُ اللَّهُ مَالًا وَلَا عِلْمًا فَهُوَ يَقُولُ: لَوْ أَنَّ لِي مَالًا لَعَمِلْتُ فِيهِ بِعَمَلِ فُلَانٍ، فَهُوَ نِيَّتُهُ، وَوِزْرُهُمَا سَوَاءٌ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.

وعن أبي كبشة الأنماري أنه سمع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "ثلاث أقسم عليهن وأحدثكم حديثا فاحفظوه، فأما الذي أقسم عليهن فإنه ما نقص مال عبد من صدقة،ولا ظلم عبد مظلمة صبر عليها إلا زاده الله بها عزا، ولا فتح عبد باب مسألة إلا فتح الله عليه باب فقر، وأما الذي أحدثكم فاحفظوه" فقال: "إنما الدنيا لأربعة نفر: عبد رزقه الله مالا وعلما فهو يتقي فيه ربه ويصل رحمه ويعمل لله فيه بحقه، فهذا بأفضل المنازل،وعبد رزقه الله علما ولم يرزقه مالا فهو صادق النية يقول: لو أن لي مالا لعملت بعمل فلان، فأجرهما سواء، وعبد رزقه الله مالا ولم يرزقه علما فهو يتخبط في ماله بغير علم، لا يتقي فيه ربه، ولا يصل فيه رحمه، ولا يعمل فيه بحق، فهذا بأخبث المنازل، وعبد لم يرزقه الله مالا ولا علما فهو يقول: لو أن لي مالا لعملت فيه بعمل فلان، فهو نيته، ووزرهما سواء". رواه الترمذي وقال: هذا حديث صحيح.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو کبشہ انماری سے ۱؎کہ انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ تین باتیں وہ ہیں جن پر میں قسم کھاتا ہوں اور ایک بات کی تمہیں خبر دیتا ہوں ۲؎اسے یاد رکھو وہ تین باتیں جن پر میں قسم فرماتا ہوں وہ یہ ہیں کہ کسی بندے کا مال صدقہ سے نہیں گھٹتا ۳؎اور کوئی ظلم نہیں کیا جاتا جس پر وہ صبر کرے ۴؎مگر اتعالٰی اس سے اس کی عزت بڑھاتا ہے ۵؎اور کوئی بندہ مانگنے کا دروازہ نہیں کھولتا مگر الله اس پر فقیری کا دروازہ کھول دیتا ہے ۶؎اور جس چیز کی میں تمہیں خبر دیتا ہوں جسے تم یاد رکھو،فرمایا دنیا چار شخصوں کے لیے ہے ایک وہ بندہ جسے الله مال اور علم دونوں دے ۷؎تو وہ اس میں اسے ڈرتا ہے،رشتہ داروں سے سلوک کرتا ہے اور اس میں اکے لیے ان کے حق کے مطابق عمل کرتا ہے ۸؎تو یہ بہترین درجوں میں ہے ۹؎اور ایک وہ بندہ جسے انے علم دیا مال نہ دیا لیکن وہ ہے سچی نیت والا،کہتا ہے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں کے لیے کام کرتا ان دونوں کا ثواب برابر ہے ۱۰؎اور ایک وہ بندہ جسے امال دے اورعلم نہ دے تو وہ اپنے مال میں بغیرعلم خلط ملط ہی کرتا ہے ۱۱؎اس میں اپنے رب سے نہیں ڈرتا اپنے رشتہ داروں سے سلوک نہیں کرتا اور نہ اس میں حق کے عمل کرتا ہے ۱۲؎تو یہ خبیث ترین درجہ والا ہے ۱۳؎اور ایک وہ بندہ جسے انہ مال دے نہ علم تو وہ کہے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں اس میں فلاں کے سے کام کرتا تو وہ اپنی نیت پر ہے۱۴؎اور ان دونوں کا گناہ برابرہے ۱۵؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث صحیح ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام عمرو بن سعد ہے یا سعد ابن عمرو یا عامر ابن سعد صحابی ہیں،آخر زمانہ میں شام میں رہے۔
۲
؎یعنی تین خبریں قسم سے بیان کرتا ہوں اور ایک خبر بغیر قسم کے۔خیال رہے کہ حضور انور کی خبر خواہ قسم سے ہو یا بغیر قسم بالکل حق اور درست ہے،حضور کی خبر کا درست ہونا ایسا ہی لازم و ضروری ہے جیسے الله تعالٰی کی خبر کا حق ہونا لازم ہے کہ رب تعالٰی کا جھوٹ بھی ناممکن ہے اور نبی کا جھوٹ بھی ناممکن اگرچہ وہ بالذات ہے یہ محال بالغیر جیسے رب تعالٰی کی قسمیں تاکید کے لیے ہوتی ہیں ایسے ہی حضور انور کی قسمیں تاکید کلام کے لیے ہیں۔
۳
؎یہاں صرفاقسمفرماکر قسم کھائی گئیو الله،باللهنہیں فرمایا یہ بھی قسم کا ایک طریقہ ہے۔صدقہ سے مراد ہر خیرات ہے فرضی ہو یا نفلی۔تجربہ شاہد ہے کہ خیرات سے مال بڑھتا ہے گھٹتا نہیں۔آزما کر دیکھ لو میرا رب سچا،اس کے رسول سچے صلی الله علیہ وسلم ۔صدقہ سے دنیا میں برکت آخرت میں ثواب ہے۔فقیر کا تجربہ تو یہ ہے کہ صدقہ والے مال کو عمومًا حاکم،حکیم،وکیل چور نہیں کھاتے دنیاوی نقصانات بھی بہت کم ہوتے ہیں۔
۴
؎یہاں صبر سے مراد اخلاقی صبر ہے نہ کہ مجبوری کا صبر۔صبر،معافی،تحمل کی جو آیات منسوخ ہیں ان میں مجبوری کا صبر ہی مراد ہے، رب فرماتاہے:"فَاعْفُوۡا وَاصْفَحُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللہُ بِاَمْرِہٖ
۵
؎چنانچہ یوسف علیہ السلام نے اپنے دربار میں آئے ہوئے بھائیوں کو معافی دی،حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر تمام اہل مکہ کو معافی دے دی جن سے عمر بھر ظلم و ستم دیکھے تھے،دیکھ لو آج تک ان حضرات کی واہ واہ ہورہی ہے یہ ہے عزت بڑھنا۔شعر
صدقےاس انعام کےقربان اس احسان کے ہو رہی دونوں عالم میں تمہاری واہ واہ
۶
؎تجربہ شاہد ہے کہ پیشہ ور بھکاریوں کے پاس اولًا تو مال جمع ہوتا ہی نہیں،اگر ہوجائے تو وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے جمع کرکے چھوڑ جاتے ہیں،انکے مال میں برکت نہیں ہوتی۔مرقات میں ان کی مثال اس کتے سے دی ہے جو منہ میں ٹکڑا لیے شفاف و صاف نہر پر گزرے اس میں اپنے عکس کو دیکھ کر سمجھے کہ یہ دوسرا کتا ہے اس سے ٹکڑا چھین لینے کے لیے اس پر منہ پھاڑ کر حملہ کرے اپنا ٹکڑا بھی کھو بیٹھے۔
۷
؎علم سے مراد علم دین ہے۔معلوم ہوا علم دین بھی اتعالٰی کی دنیاوی نعمتوں سے ایک اعلٰی نعمت ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ مال سانپ ہے علم دین تریاق،ہمیشہ تریاق کے ساتھ زہر مفید ہوتا ہے،بغیر تریاق ہلاک کردیتا ہے۔
۸
؎اگرچہبحقہمیں سارے سلوک،صدقات داخل ہیں مگر چونکہ عزیزوں قرابت داروں کے حقو ق ادا کرنا بہترین عبادت ہے اور تمام صدقات میں اعلٰی و افضل اس لیے اس کا ذکر علیحدہ فرمایا گیا۔
۹
؎اس لیے کہ یہ شخص دین و دنیا دونوں جگہ سرخرو شاد آباد رہے گا کیونکہ وہ مال کمائے گا حکم الٰہی کے مطابق،خرچ کرے گا اسی کے مطابق،جمع کرے گا اسی فرمان کے ماتحت۔مال کی آمد،جمع،خرچ سب شریعت کے مطابق چاہیے۔
۱۰
؎معلوم ہوا کہ نیکی کی تمنا بھی نیکی ہے۔غریب عالم خواہ زبان سے تمنا کرے یا فقط دل سے بہرحال ثواب برابر ہی ہے۔
۱۱
؎یتخبطبنا ہےخبطسے بمعنی بے فائدہ ہاتھ پاؤ ں مارنا خلط ملط کرنا اس لیے دیوانگی کوتخبطکہتے ہیں،دیوانہ کوخبطیکہ وہ ہر طرح بے فائدہ ہاتھ پاؤ ں مارتا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الْمَسِّ" یعنی وہ ہر حرام و حلال طریقے سے مال کماتا ہے اور ہر حلال حرام جگہ خرچ کرتا رہتا ہے،نہ خود عالم ہے نہ علماء کی بات مانتا ہے جیساکہ آج کل عام امیروں کا حال ہے۔
۱۲
؎ایسے لوگ اگر کبھی اچھی جگہ خرچ بھی کرتے ہیں تو اپنی ناموری کے لیے خرچ کرتے ہیں مگر بے فائدہ بلکہ مضر۔
۱۳
؎کیونکہ اس کا مال اس کے لیے وبال ہے،مال کی وجہ سے اس پر گناہوں کے دروازے بہت کھل جاتے ہیں وہ مال کے نشہ میں نہ کرنے والے کام کرتا رہتا ہے۔اتعالٰی عثمانی مال دے ابوجہلی مال سے بچائے۔
۱۴
؎یعنی فلاں بدمعاش مالدار کی طرح میں بھی شراب پیتا،جوا کھیلتا،زنا کرتا۔کروں کیا کہ یہ کام پیسہ سے ہوتے ہیں اور میرے پاس پیسہ نہیں۔
۱۵
؎یعنی یہ بدنصیب بغیر کچھ کیے سب کچھ کررہا ہے کرنے والوں کے ساتھ دوزخ میں جارہا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5287