باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5287
دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي كَبْشَةَ الأَنْمَارِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "ثَلَاثٌ أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ وَأُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا فَاحْفَظُوهُ، فَأَمَّا الَّذِي أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ فَإِنَّهُ مَا نَقَصَ مَالُ عَبْدٍ مِنْ صَدَقَةٍ،وَلَا ظُلِمَ عَبْدٌ مَظْلِمَةً صَبَرَ عَلَيْهَا إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا عِزًّا، وَلَا فَتَحَ عَبْدٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ، وَأَمَّا الَّذِي أُحَدِّثُكُمْ فَاحْفَظُوهُ" فَقَالَ: "إِنَّمَا الدُّنْيَا لِأَرْبَعَةِ نَفَرٍ: عَبْدٌ رَزَقَهُ اللَّهُ مَالًا وَعِلْمًا فَهُوَ يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ وَيَصِلُ رَحِمَهُ وَيَعْمَلُ لِلَّهِ فِيهِ بِحَقِّهِ، فَهَذَا بِأَفْضَلِ الْمَنَازِلِ،وَعَبدٌ رَزَقَهُ اللَّهُ عِلْمًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ مَالًا فَهُوَ صَادِقُ النِّيَّةِ يَقُولُ: لَوْ أَنَّ لِي مَالًا لَعَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ، فَأَجْرُهُمَا سَوَاءٌ، وَعَبْدٌ رَزَقَهُ اللَّهُ مَالًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ عِلْمًا فَهُوَ يَتَخَبَّطُ فِي مَالِهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ، لَا يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ، وَلَا يَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ، وَلَا يَعْمَلُ فِيهِ بِحَقٍّ، فَهَذَا بِأَخْبثِ الْمَنَازِلِ، وَعَبْدٌ لَمْ يَرْزُقْهُ اللَّهُ مَالًا وَلَا عِلْمًا فَهُوَ يَقُولُ: لَوْ أَنَّ لِي مَالًا لَعَمِلْتُ فِيهِ بِعَمَلِ فُلَانٍ، فَهُوَ نِيَّتُهُ، وَوِزْرُهُمَا سَوَاءٌ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.
وعن أبي كبشة الأنماري أنه سمع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "ثلاث أقسم عليهن وأحدثكم حديثا فاحفظوه، فأما الذي أقسم عليهن فإنه ما نقص مال عبد من صدقة،ولا ظلم عبد مظلمة صبر عليها إلا زاده الله بها عزا، ولا فتح عبد باب مسألة إلا فتح الله عليه باب فقر، وأما الذي أحدثكم فاحفظوه" فقال: "إنما الدنيا لأربعة نفر: عبد رزقه الله مالا وعلما فهو يتقي فيه ربه ويصل رحمه ويعمل لله فيه بحقه، فهذا بأفضل المنازل،وعبد رزقه الله علما ولم يرزقه مالا فهو صادق النية يقول: لو أن لي مالا لعملت بعمل فلان، فأجرهما سواء، وعبد رزقه الله مالا ولم يرزقه علما فهو يتخبط في ماله بغير علم، لا يتقي فيه ربه، ولا يصل فيه رحمه، ولا يعمل فيه بحق، فهذا بأخبث المنازل، وعبد لم يرزقه الله مالا ولا علما فهو يقول: لو أن لي مالا لعملت فيه بعمل فلان، فهو نيته، ووزرهما سواء". رواه الترمذي وقال: هذا حديث صحيح.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابو کبشہ انماری سے ۱؎کہ انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ تین باتیں وہ ہیں جن پر میں قسم کھاتا ہوں اور ایک بات کی تمہیں خبر دیتا ہوں ۲؎اسے یاد رکھو وہ تین باتیں جن پر میں قسم فرماتا ہوں وہ یہ ہیں کہ کسی بندے کا مال صدقہ سے نہیں گھٹتا ۳؎اور کوئی ظلم نہیں کیا جاتا جس پر وہ صبر کرے ۴؎مگر اﷲتعالٰی اس سے اس کی عزت بڑھاتا ہے ۵؎اور کوئی بندہ مانگنے کا دروازہ نہیں کھولتا مگر الله اس پر فقیری کا دروازہ کھول دیتا ہے ۶؎اور جس چیز کی میں تمہیں خبر دیتا ہوں جسے تم یاد رکھو،فرمایا دنیا چار شخصوں کے لیے ہے ایک وہ بندہ جسے الله مال اور علم دونوں دے ۷؎تو وہ اس میں اﷲسے ڈرتا ہے،رشتہ داروں سے سلوک کرتا ہے اور اس میں اﷲکے لیے ان کے حق کے مطابق عمل کرتا ہے ۸؎تو یہ بہترین درجوں میں ہے ۹؎اور ایک وہ بندہ جسے اﷲنے علم دیا مال نہ دیا لیکن وہ ہے سچی نیت والا،کہتا ہے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں کے لیے کام کرتا ان دونوں کا ثواب برابر ہے ۱۰؎اور ایک وہ بندہ جسے اﷲمال دے اورعلم نہ دے تو وہ اپنے مال میں بغیرعلم خلط ملط ہی کرتا ہے ۱۱؎اس میں اپنے رب سے نہیں ڈرتا اپنے رشتہ داروں سے سلوک نہیں کرتا اور نہ اس میں حق کے عمل کرتا ہے ۱۲؎تو یہ خبیث ترین درجہ والا ہے ۱۳؎اور ایک وہ بندہ جسے اﷲنہ مال دے نہ علم تو وہ کہے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں اس میں فلاں کے سے کام کرتا تو وہ اپنی نیت پر ہے۱۴؎اور ان دونوں کا گناہ برابرہے ۱۵؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث صحیح ہے۔
شرح حدیث
۱∞؎آپ کا نام عمرو بن سعد ہے یا سعد ابن عمرو یا عامر ابن سعد صحابی ہیں،آخر زمانہ میں شام میں رہے۔
۲؎یعنی تین خبریں قسم سے بیان کرتا ہوں اور ایک خبر بغیر قسم کے۔خیال رہے کہ حضور انور کی خبر خواہ قسم سے ہو یا بغیر قسم بالکل حق اور درست ہے،حضور کی خبر کا درست ہونا ایسا ہی لازم و ضروری ہے جیسے الله تعالٰی کی خبر کا حق ہونا لازم ہے کہ رب تعالٰی کا جھوٹ بھی ناممکن ہے اور نبی کا جھوٹ بھی ناممکن اگرچہ وہ بالذات ہے یہ محال بالغیر جیسے رب تعالٰی کی قسمیں تاکید کے لیے ہوتی ہیں ایسے ہی حضور انور کی قسمیں تاکید کلام کے لیے ہیں۔
۳؎یہاں صرفاقسمفرماکر قسم کھائی گئیو الله،باللهنہیں فرمایا یہ بھی قسم کا ایک طریقہ ہے۔صدقہ سے مراد ہر خیرات ہے فرضی ہو یا نفلی۔تجربہ شاہد ہے کہ خیرات سے مال بڑھتا ہے گھٹتا نہیں۔آزما کر دیکھ لو میرا رب سچا،اس کے رسول سچے صلی الله علیہ وسلم ۔صدقہ سے دنیا میں برکت آخرت میں ثواب ہے۔فقیر کا تجربہ تو یہ ہے کہ صدقہ والے مال کو عمومًا حاکم،حکیم،وکیل چور نہیں کھاتے دنیاوی نقصانات بھی بہت کم ہوتے ہیں۔
۴؎یہاں صبر سے مراد اخلاقی صبر ہے نہ کہ مجبوری کا صبر۔صبر،معافی،تحمل کی جو آیات منسوخ ہیں ان میں مجبوری کا صبر ہی مراد ہے، رب فرماتاہے:"فَاعْفُوۡا وَاصْفَحُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللہُ بِاَمْرِہٖ"۔
۵؎چنانچہ یوسف علیہ السلام نے اپنے دربار میں آئے ہوئے بھائیوں کو معافی دی،حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر تمام اہل مکہ کو معافی دے دی جن سے عمر بھر ظلم و ستم دیکھے تھے،دیکھ لو آج تک ان حضرات کی واہ واہ ہورہی ہے یہ ہے عزت بڑھنا۔شعر
صدقےاس انعام کےقربان اس احسان کے ہو رہی دونوں عالم میں تمہاری واہ واہ
۶؎تجربہ شاہد ہے کہ پیشہ ور بھکاریوں کے پاس اولًا تو مال جمع ہوتا ہی نہیں،اگر ہوجائے تو وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے جمع کرکے چھوڑ جاتے ہیں،انکے مال میں برکت نہیں ہوتی۔مرقات میں ان کی مثال اس کتے سے دی ہے جو منہ میں ٹکڑا لیے شفاف و صاف نہر پر گزرے اس میں اپنے عکس کو دیکھ کر سمجھے کہ یہ دوسرا کتا ہے اس سے ٹکڑا چھین لینے کے لیے اس پر منہ پھاڑ کر حملہ کرے اپنا ٹکڑا بھی کھو بیٹھے۔
۷؎علم سے مراد علم دین ہے۔معلوم ہوا علم دین بھی اﷲتعالٰی کی دنیاوی نعمتوں سے ایک اعلٰی نعمت ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ مال سانپ ہے علم دین تریاق،ہمیشہ تریاق کے ساتھ زہر مفید ہوتا ہے،بغیر تریاق ہلاک کردیتا ہے۔
۸؎اگرچہبحقہمیں سارے سلوک،صدقات داخل ہیں مگر چونکہ عزیزوں قرابت داروں کے حقو ق ادا کرنا بہترین عبادت ہے اور تمام صدقات میں اعلٰی و افضل اس لیے اس کا ذکر علیحدہ فرمایا گیا۔
۹؎اس لیے کہ یہ شخص دین و دنیا دونوں جگہ سرخرو شاد آباد رہے گا کیونکہ وہ مال کمائے گا حکم الٰہی کے مطابق،خرچ کرے گا اسی کے مطابق،جمع کرے گا اسی فرمان کے ماتحت۔مال کی آمد،جمع،خرچ سب شریعت کے مطابق چاہیے۔
۱۰؎معلوم ہوا کہ نیکی کی تمنا بھی نیکی ہے۔غریب عالم خواہ زبان سے تمنا کرے یا فقط دل سے بہرحال ثواب برابر ہی ہے۔
۱۱؎یتخبطبنا ہےخبطسے بمعنی بے فائدہ ہاتھ پاؤ ں مارنا خلط ملط کرنا اس لیے دیوانگی کوتخبطکہتے ہیں،دیوانہ کوخبطیکہ وہ ہر طرح بے فائدہ ہاتھ پاؤ ں مارتا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الْمَسِّ" یعنی وہ ہر حرام و حلال طریقے سے مال کماتا ہے اور ہر حلال حرام جگہ خرچ کرتا رہتا ہے،نہ خود عالم ہے نہ علماء کی بات مانتا ہے جیساکہ آج کل عام امیروں کا حال ہے۔
۱۲؎ایسے لوگ اگر کبھی اچھی جگہ خرچ بھی کرتے ہیں تو اپنی ناموری کے لیے خرچ کرتے ہیں مگر بے فائدہ بلکہ مضر۔
۱۳؎کیونکہ اس کا مال اس کے لیے وبال ہے،مال کی وجہ سے اس پر گناہوں کے دروازے بہت کھل جاتے ہیں وہ مال کے نشہ میں نہ کرنے والے کام کرتا رہتا ہے۔اﷲتعالٰی عثمانی مال دے ابوجہلی مال سے بچائے۔
۱۴؎یعنی فلاں بدمعاش مالدار کی طرح میں بھی شراب پیتا،جوا کھیلتا،زنا کرتا۔کروں کیا کہ یہ کام پیسہ سے ہوتے ہیں اور میرے پاس پیسہ نہیں۔
۱۵؎یعنی یہ بدنصیب بغیر کچھ کیے سب کچھ کررہا ہے کرنے والوں کے ساتھ دوزخ میں جارہا ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5287