Main Icon

باب :نیک باتوں کا حکم دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5137

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخدريِّ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ رَأٰى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهٖ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهٖ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهٖ، وَذٰلِكَ أَضْعَفُ الإِيْمَانِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

عن أبي سعيد الخدري عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من رأى منكم منكرا فليغيره بيده فإن لم يستطع فبلسانه فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری( رضی اللہ عنہ)سے ۱∞؎کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو تم میں سے برا کام دیکھے ۲؎تو اسے ہاتھ سے روک دے اگر اس کی طاقت نہیں ۳؎رکھتا تو زبان سے اگر اس کی بھی نہیں رکھتا تو دل سے۴؎اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۵؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا اسم گرامی سعد بن مالک انصاری خدری ہے اور آپ اپنی کنیت ابو سعید خدری کے ساتھ زیادہ مشہور ہیں،آپ ان حفاظ حدیث میں سے ہیں جن کو بہت زیادہ احادیث یاد ہیں،نیز آپ کا شمار بڑے بڑے فضلاء اور عقلاء میں ہوتا ہے،آپ سے صحابہ کرام اور تابعین کی ایک جماعت نے احادیث روایت کی ہیں،چوراسی سال کی عمر میں ۴۷ھ؁ ∞میں آپ نے وصال فرمایا اور آپ کو جنت البقیع(مدینہ طیبہ)میں سپرد خاک کیا گیا،لفظ خدری میں خاء پر ضمہ ہے اور دال ساکن ہے۔
۲
؎رای یریمہموز العین بابفتح یفتحدیکھنا،منکرباب افعال سے اسم مفعول ہے وہ کام جو ازروئے شریعت ناجائز ہو اسے ختم کرنا مراد ہے،استطاعت کسی کام کا آدمی کے بس میں ہوناطاقت مراد ہے۔
۳
؎برائی کو بدلنے کے لیے ہر طبقے کو اس کی طاقت کے مطابق ذمہ داری سونپی گئی کیونکہ اسلام میں کسی بھی انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دی جاتی۔ارباب اقتدار،اساتذہ،والدین وغیرہ جو اپنے ماتحتوں کو کنٹرول کرسکتے ہیں وہ قانون پر سختی سے عمل کرا کے اور مخالفت کی صورت میں سزا دے کر برائی کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔
مبلغین اسلام،علماء و مشائخ،ادیب و صحافی اور دیگر ذرائع ابلاغ مثلًا ریڈیو اور ٹی وی وغیرہ سے سبھی لوگ اپنی تقریروں تحریروں بلکہ شعراء اپنی نظموں کے ذریعے برائی کا قلع قمع کریں اور نیکی کوفروغ دیں،
بلسانہکے تحت یہ تمام صورتیں آتی ہیں۔
۴
؎اور عام مسلمان جسے اقتدار کی کوئی صورت بھی حاصل نہیں اور نہ ہی وہ تحریر و تقریر کے ذریعے برائی کا خاتمہ کرسکتا ہے وہ دل سے اس برائی کو برا سمجھے اگرچہ یہ ایمان کا کمزور ترین مرتبہ ہے کیونکہ کوشش کرکے زبان سے روکنا چاہیے لیکن دل سے جب برا سمجھے گا تو یقینًا خود برائی کے قریب نہیں جائے گا اور اس طرح معاشرے کے بے شمار افراد خودبخود راہ راست پرآجائیں گے۔
۵
؎حدیث شریف سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ جو آدمی برائی کو دل سے بھی برا نہ جانے اسے اپنے آپ کو مؤمنین میں شمارکرنے کا کوئی حق نہیں کیونکہ دل سے برا سمجھنے میں تو کسی کا ڈر نہیں پھر بھی برا نہیں سمجھتا تو معلوم ہوا وہ اس پر راضی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5137