Main Icon

باب :نیک باتوں کا حکم دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5140

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ أَوْ لَيُوشِكَنَّ اللّٰهُ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ عِنْدِهٖ ثُمَّ لَتَدْعُنَّهٗ وَلَا يُسْتَجَابُ لَكُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

عن حذيفة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «والذي نفسي بيده لتأمرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر أو ليوشكن الله أن يبعث عليكم عذابا من عنده ثم لتدعنه ولا يستجاب لكم» . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے ۱∞؎کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے تم ضرور نیک کاموں کا حکم کرنا اور برے کاموں سے منع کرتے رہنا ورنہ قریب ہے ۲؎کہ اللہ تعالٰی تم پر اپنے پاس سے عذاب بھیج دے گا پھر تم اس سے دعا کرو گے تو تمہاری دعا قبول نہیں کی جائے گی۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رازوں کے امین تھے،آپ سے حضرت عمر بن خطاب،حضرت علی المرتضٰی،حضرت ابوالدرداء اور دیگر صحابہ کرام اور تابعین(رضی اللہ عنہم) نے احادیث روایت کی ہیں،آپ نے ۴۶ھ؁ ∞میں مدائن میں انتقال فرمایا اور آپ کا مزار پر انوار بھی وہیں ہے۔
۲
؎لیوشکناوشكسے واحد مذکر غائب لام تاکید بانون تاکید ثقیلہ کا صیغہ ہے اور یہ افعال مقاربہ میں سے ہے۔
۳
؎امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داری سے پہلو تہی کتنا بڑا جرم ہے۔اس حدیث میں نہایت وضاحت کے ساتھ اس کا بیان کیا گیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا تو تمہیں یہ فریضہ انجام دینا ہوگا یا اللہ تعالٰی کے عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کے بعد اگر دعا بھی کرو گے تو قبول نہ ہوگی۔یہ نہایت سخت قسم کی وعید ہے یعنی جب تک تم اپنی کوتاہی کا ازالہ نہیں کرو گے اور اللہ تعالٰی سے معافی نہیں مانگو گے تمہاری کوئی دعا قبول نہ ہوگی۔اس حدیث میں امر بالمعروف کا ذکر بھی قسم اور تاکیدی صیغوں کے ساتھ ہوا اور عذاب کے ذکر کے لیے بھی تاکیدی صیغہ استعمال کیا گیا جو اس کی اہمیت اور عدم بجا آوری کی صورت میں عذاب کے یقینی ہونے کی طرف اشارہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5140