Main Icon

باب :نیک باتوں کا حکم دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5153

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ يَسْأَلُ الْعَبْدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ:مَا لَكَ إِذَا رَأَيْتَ الْمُنْكَرَ فَلَمْ تُنْكِرْهُ؟ " قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَيُلَقّٰى حُجَّتَهٗ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ خِفْتُ النَّاسَ وَرَجَوْتُكَ رَوَى البَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ "

وعن أبي سعيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن الله عز وجل يسأل العبد يوم القيامة فيقول:ما لك إذا رأيت المنكر فلم تنكره؟ " قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" فيلقى حجته فيقول: يا رب خفت الناس ورجوتك روى البيهقي الأحاديث الثلاثة في شعب الإيمان "

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے روز اللہ تعالٰی بندے سے پوچھتے ہوئے فرمائے گا تجھے کیا ہوگیا تھا کہ تو برائی کو دیکھتا تھا لیکن اس سے منع نہیں کرتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے حجت سکھادی جائے گی ۱∞؎لہذا عرض کرے گا اے رب لوگوں سے ڈرتے ہوئے اور تجھ سے امید رکھتے ہوئے ان تینوں حدیثوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۲؎

شرح حدیث

۱∞؎فیلقی تلقیہباب تفعیل سے مضارع مجہول کا صیغہ ہے،کسی بات کا دل میں ڈالناتلقیۃکہلاتا ہے،رجوتنصر ینصرسے واحد متکلم فعل ماضی کا صیغہ ہے میں نے امید کی۔
۲
؎اس حدیث شریف میں ان لوگوں پر اللہ تعالٰی کی خاص رحمت کے نزول کا ذکر ہے جو برائی سے نفرت کرتے ہیں اور دل سے چاہتے ہیں کہ اس کا قلع قمع کیا جائے لیکن بدمعاشوں کی بدمعاشی ان کے آڑے آتی ہے اور وہ برائی کو دل سے برا سمجھتے ہوئے عملًا اسے ختم نہیں کرسکتے۔قیامت کا دن اتنا ہولناک ہوگا کہ انسان کو جو بات یاد ہوگی وہ بھی بھول جائے گا لیکن برائی سے نفرت کرنے والے لوگوں پر اللہ تعالٰی کی اس قدر رحمت ہوگی کہ وہ خود ان کو جواب سکھادے گا لیکن یہ ان ہی لوگوں کا حصہ ہے جو برائی کے خلاف آواز کسی مجبوری کے تحت بلند نہیں کرسکتے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5153