Main Icon

باب :نیک باتوں کا حکم دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5143

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَن جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:«مَا مِنْ رَجُلٍ يَكُونُ فِي قَوْمٍ يَعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي يَقْدِرُونَ عَلٰى أَنْ يُغَيِّروا عَلَيْهِ وَلَا يُغَيِّرُونَ إِلَّا أَصَابَهُمُ اللّٰهُ مِنْهُ بِعِقَابٍ قَبْلَ أَنْ يَمُوتُوا».رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَابْن مَاجَه

وعن جرير بن عبد الله قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:«ما من رجل يكون في قوم يعمل فيهم بالمعاصي يقدرون على أن يغيروا عليه ولا يغيرون إلا أصابهم الله منه بعقاب قبل أن يموتوا».رواه أبوداود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

حضرت جریر ابن عبداللہ رضی اللہ عنہ ۱∞؎کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کسی قوم کا کوئی آدمی ان کے درمیان گناہ کرتا ہو اور وہ اسے روکنے کی طاقت رکھتے ہوں لیکن نہ روکیں تو اللہ تعالٰی ان سب پر عذاب بھیجے گا اس سے پہلے کہ وہ مریں۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عمرو ہے اور آپ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے چالیس دن پہلے اسلام لائے،اس کے بعد کوفہ تشریف لے گئے اور ایک عرصہ دراز کے بعد قرقسیا مقام پر منتقل ہوئے اور ۵۱ھ؁ ∞میں انتقال فرمایا آپ سے بےشمار لوگوں نے احادیث روایت کی ہیں۔
۲
؎اس حدیث کا مضمون گزشتہ حدیث کے مطابق ہے اور اس میں اس بات کا اضافہ ہے کہ جس قوم یا جماعت میں کچھ لوگ برائی کے مرتکب ہوں اور وہ قوم ان کو روکنے کی طاقت رکھنے کے باوجود نہ روکے تو وہ بھی عذابِ خداوندی کے مستحق ہوں گے اور یہ عذاب وہ لوگ مرنے سے پہلے دنیا میں ہی دیکھ لیں گے۔حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ برائی کو بدلنے میں کوتاہی کرنا دوسرے جرائم کے مقابلے میں اس لحاظ سے منفرد ہے کہ دوسرے گناہوں کی سزا آخرت میں ملے گی جب کہ اس کوتاہی کی سزا دنیا میں بھی ملے گی اور آخرت کا عذاب اس کے علاوہ ہوگا۔(اشعۃ ا للمعات) اس حدیث کی روشنی میں حکمرانوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے کہ وہ اقتدار اور طاقت کے باوجود معاشرے سے برائیوں کا قلع قمع نہیں کرتے حالانکہ یہ ان کا فرض ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5143