Main Icon

باب :نیک باتوں کا حکم دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5152

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوْحَى اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلٰى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: أَنِ اقْلِبْ مَدِينَةَ كَذَا وَكَذَا بِأَهْلِهَا قَالَ: يَا رَبِّ! إِنَّ فِيهِمْ عَبْدَكَ فُلَانًا لَمْ يَعْصِكَ طَرْفَةَ عَيْنٍ".قَالَ:"فَقَالَ: اقْلِبْهَا عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ فَإِنَّ وَجْهَهُ لَمْ يَتَمَعَّرْ فِيَّ سَاعَةً قَطُّ "

وعن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أوحى الله عز وجل إلى جبريل عليه السلام: أن اقلب مدينة كذا وكذا بأهلها قال: يا رب! إن فيهم عبدك فلانا لم يعصك طرفة عين".قال:"فقال: اقلبها عليه وعليهم فإن وجهه لم يتمعر في ساعة قط "

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ ۱∞؎سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی نے جبرئیل علیہ السلام کی طرف وحی کی فلاں بستی کو اس کے باشندوں پر الٹا دو ۲؎عرض گزار ہوئے کہ اے رب اس میں تو تیرا فلاں بندہ بھی ہے جس نے آنکھ جھپکنے کی دیربھی تیری نافرمانی نہیں کی فرمایا کہ اس پر اور دوسرے سب پر الٹا دو کیونکہ میری خاطر اس کا چہرہ ایک ساعت کے لیے بھی متغیر نہیں ہوا تھا۳؎

شرح حدیث

۱∞؎حضرت ابو عبداللہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ انصاری سلمی تھے،آپ معروف صحابہ کرام میں شامل ہیں اور آپ سے مروی روایات بہت زیادہ ہیں،غزوہ بدر اور اس کے بعد اٹھارہ غزوات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شرکت کی آپ نے چورانوے سال کی عمر میں ۷۴ھ؁∞ مدینہ طیبہ میں وصال فرمایا،ایک قول کے مطابق مدینہ طیبہ میں سب سے آخر میں فوت ہونے والے صحابی آپ ہی ہیں۔
۲
؎قلب یقلببابضرب یضربسے ہے،اس کا معنی ہے کسی چیز کو الٹ دینا اور پھیر دینا اس سےاقلبامر کا صیغہ ہے۔تمعر یتمعر تمعراباب تفعل ہے،غصے کی وجہ سے چہرے کا رنگ بدل جانا۔
۳
؎اس حدیث شریف سے واضح ہوتا ہے کہ جہاں اعمال صالحہ سے تعلق اور برائیوں سے اجتناب ضروری ہے وہاں دین و ملت کے خلاف سازشوں اور مسلمانوں پر ظلم و ستم،نیز معاشرتی بگاڑ کی وجہ سے پریشان ہونا بھی ایمان کا تقاضا ہے۔جو لوگ اللہ تعالٰی کی رضا جوئی کی خاطر معاشرتی برائیوں کے ازالے کے لیے کوشاں نہیں رہتے اور عدم طاقت کی صورت میں اس پر پریشان بھی نہیں ہوتے ان کا تقویٰ کس کام کا لہذا اپنی اصلاح اور عبادت خداوندی میں مشغولیت کے ساتھ ساتھ ملک و ملت اور مسلمانان عالم کی زبوں حالی کے خاتمے اور معاشرے کو غیر شریک حرکات و سکنات سے پاک کرنے کے لیے کوشاں رہنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5152