Main Icon

باب :نیک باتوں کا حکم دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5148

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«لَمَّا وَقَعَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ فِي الْمَعَاصِي نَهَتْهُمْ عُلَمَاؤُهُمْ فَلَمْ يَنْتَهُوا فَجَالَسُوهُمْ فِي مَجَالِسِهِمْ وَآكَلُوهُمْ وَشَارَبُوهُمْ فَضَرَبَ اللّٰهُ قُلُوبَ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ فَلَعَنَهُمْ عَلٰى لِسَانِ دَاوُد وَعِيسَى بْنِ مَرْيَمَ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ».قَالَ: فَجَلَسَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مُتَّكِئًا فَقَالَ: «لَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ حَتّٰى تَأْطِرُوهُمْ أَطْرًا».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَفِي رِوَايَتِهٖ قَالَ: «كَلَّا وَاللّٰهِ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ وَلَتَأْخُذُنَّ عَلٰى يَدَيِ الظَّالِمِ وَلَتَأْطِرُنَّهٗ عَلَى الْحَقِّ أَطْرًا، وَلَتَقْصُرَنَّهٗ عَلَى الحَقِّ قَصْرًا أَوْ لَيَضْرِبَنَّ اللّٰهُ بِقُلُوبِ بَعْضِكُمْ عَلٰى بَعْضٍ ثُمَّ لَيَلْعَنَنَّكُمْ كَمَا لَعَنَهُمْ»

وعن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:«لما وقعت بنو إسرائيل في المعاصي نهتهم علماؤهم فلم ينتهوا فجالسوهم في مجالسهم وآكلوهم وشاربوهم فضرب الله قلوب بعضهم ببعض فلعنهم على لسان داود وعيسى بن مريم ذلك بما عصوا وكانوا يعتدون».قال: فجلس رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان متكئا فقال: «لا والذي نفسي بيده حتى تأطروهم أطرا».رواه الترمذي وأبوداود وفي روايته قال: «كلا والله لتأمرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر ولتأخذن على يدي الظالم ولتأطرنه على الحق أطرا، ولتقصرنه على الحق قصرا أو ليضربن الله بقلوب بعضكم على بعض ثم ليلعننكم كما لعنهم»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ ۱∞؎سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بنی اسرائیل گناہوں میں پڑے تو ان کے علماء نے انہیں روکا لیکن وہ باز نہ آئے پس علماء ان کی مجالس میں شامل ہوتے رہے اور ان کے ساتھ کھاتے پیتے رہے پس اللہ تعالٰی نے بعض کے دلوں کو دوسرے بعض کے دلوں سے ملادیا پس ان پر حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ بن مریم کی زبانی لعنت فرمائی یہ اس لیے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور حد سے گزرتے تھے،راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے یہاں تک کہ تم انہیں ظلم سے پوری طرح روک لو۲؎(ترمذی،ابوداؤد)اور ایک روایت میں فرمایا خدا کی قسم تم ضرور نیک کاموں کا حکم دو گے برے کاموں سے منع کرو گے ظالم کا ہاتھ پکڑ کر اسے حق کی طرف کھینچ لو گے اور اسے مجبورکردو گے کہ اپنے حق پر ہی رہے ورنہ اللہ تعالٰی تمہارے بعض دلوں کو دوسرے بعض دلوں سے ملادے گا پھر تم پر لعنت کرے گا جیسے دوسروں پر لعنت کی تھی۳؎

شرح حدیث

۱∞؎حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ معروف صحابی ہیں،آپ کی کنیت ابو عبدالرحمن ہے،کہا جاتا ہے کہ آپ اسلام لانے والوں میں چھٹے نمبر پر ہیں،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خواص میں سے تھے،آپ کے نعلین مبارک اور مسواک مبارک کے امین اور آپ کے راز دار تھے،آپ نے حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی،غزوہ بدر میں بھی شریک ہوئے،بے شمار احادیث کی روایت سے مشرف ہوئے، ۳۲ھ؁∞ میں آپ کا وصال ہوا اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے،آپ سے حضرت ابوبکر صدیق حضرت عمر فاروق حضرت علی المرتضی اور دیگر صحابہ کرام اور تابعین(رضی اللہ عنہم)نے احادیث روایت کی ہیں۔
۲
؎فجالسوھمان کے ہم پیالہ وہم نوالہ ہوگئےاکلوھم،جالسوھم،شاربوھمتمام صیغے باب مفاعلہ سے جمع مذکر غائب ماضی کے صیغے ہیں اورھمضمیر منصوب متصل مفعول بہ ہے۔باب مفاعلہ فعل میں شراکت کا تقاضا کرتا ہے گویا ان کا کھانے پینے اور مجلس میں اشتراک تھا،اطریاطربابضرباورنصردونوں سے آتا ہے۔کسی چیز کو توڑ دینا ہے اور دوہرا کرنا۔ اس حدیث شریف میں بنی اسرائیل کے علماء کا کردار ذکر کرنے کے بعد اس راستے پر چلنے سے روکا گیا بتایا گیا کہ بنی اسرائیل کے علماء نے اپنی قوم کو برائی سے منع کیا جب وہ باز نہ آئے تو بجائے اس کے کہ وہ ان کا بائیکاٹ کرکے ان کو برائی چھوڑنے پر مجبور کرتے خود ان کے ہم مجلس اور ہم پیالہ وہم نوالہ ہوگئے اور ان کے دل ایک جیسے ہوگئے جس کی بنیاد پر وہ لعنت کے مستحق ہوئے۔
۳
؎سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے ارباب اختیار اور علماء کو متنبہ کیا کہ تمہیں اس طریقہ کار سے بچنا ہوگا اور برائی کا ارتکاب کرنے والوں کا ہاتھ روکنا ہوگا،منافقت و مداہنت سے کام لینے کے بجائے غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرنا اور امربالمعروف و نہی عن المنکر سے متعلق اپنی ذمہ داری کو پورا کرنا ہوگا ظالم کا ہاتھ روک کر اسے راہِ حق پر لانا ہوگا ورنہ تم بھی بنی اسرائیل کی طرح لعنت کے مستحق ہوجاؤگے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5148