Main Icon

باب :نیک باتوں کا حکم دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5150

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُنْزِلَتِ الْمَائِدَةُ مِنَ السَّمَآءِ خُبْزًا وَلَحْمًا وَأُمِرُوا أَنْ لَا يَخُونُوا وَلَا يَدَّخِرُوا لِغَدٍ فَخَانُوا وَادَّخَرُوا وَرَفَعُوا لغَدٍ فمُسِخُوا قِرَدَةً وخَنَازِيرَ » . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن عمار بن ياسر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أنزلت المائدة من السماء خبزا ولحما وأمروا أن لا يخونوا ولا يدخروا لغد فخانوا وادخروا ورفعوا لغد فمسخوا قردة وخنازير » . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالٰی عنہ ۱∞؎سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آسمان سے روٹی اور گوشت والا دسترخوان نازل ہوا ۲؎اور حکم دیا گیا کہ خیانت نہ کرنا اور کل کے لیے جمع نه کرنا پس انہوں نے خیانت کی اور اگلے روز کے لیے اٹھا کر رکھ لیتے پس وہ بندروں اور خنزیروں کی شکل میں تبدیل کردیئے گئے ۳؎(ترمذی)۴؎

شرح حدیث

۱∞؎حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما حضرت یاسر بن عامر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے تھے،دونوں باپ بیٹا ابتدائی دور میں اسلام لائے اور اسلام لانے کی پاداش میں بڑی سختیاں جھیلیں،آپ کو کفار نے انگاروں پر لٹایا پانی میں غوطے دیئے اور طرح طرح کی تکالیف میں مبتلا کیا لیکن آپ کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی، ۳۶ھ؁ ∞میں آپ نے اکانوے برس میں جنگ صفین میں شہادت پائی۔
۲
؎المائدہ امام راغب فرماتے ہیں اس تھال کو کہا جاتا ہے جس میں کھانا کھاتے ہیں لیکن دسترخوان اور کھانے دونوں كيلئے استعمال ہوتا ہے یہاں کھانا مراد ہے۔
۳
؎حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قوم پر روٹی اور گوشت آسمان سے نازل ہوا لیکن ان کو ذخیرہ کرنے اور دوسرے دن کے لیے بچاکر رکھنے سے منع یا گیا تھا اور جب انہوں نے اس حکم کی پابندی نہ کی تو انکی شکلیں بگاڑ دی گئیں گویا اللہ تعالٰی کی نافرمانی کرنے والے اتنی بڑی سزا کے مستحق ہیں یہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ ہے کہ یہ امت دن رات حکم خداوندی سے منہ پھیرتی ہے لیکن شکل بگڑنے کے عذاب سے محفوظ ہے۔
۴
؎اس حدیث کو اس باب میں لانے کا مطلب یہ ہے کہ امر بالمعروف کرنے والا اپنی ذمہ داری کو پورا کرتا ہے اور جن لوگوں کو برائی سے روکا گیا وہ عمل نہ کریں تو سزا کے مستحق ہوں گے جیسے ان لوگوں کو دوسرے دن کے لیے ذخیرہ کرنے سے منع کیاگیا لیکن جب انہوں نے اطاعت نہ کی تو ان کو سخت سزا دی گئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5150