- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5694
باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5694
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "تَحَاجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَقَالَتِ النَّارُ: أُوْثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ، وَقَالَتِ الْجَنَّةُ: فَمَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ وَغِرَّتُهُمْ قَالَ اللَّهُ لِلْجَنَّةِ: إِنَّمَا أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي، وَقَالَ لِلنَّارِ: إِنَّمَا أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا، فَأَمَّا النَّارُ فَلَا تَمْتَلِئُ حَتَّى يَضَعَ اللَّهُ رِجْلَهُ تَقُولُ: قَطْ قَطْ قَطْ، فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ، فَلَا يَظْلِمُ اللَّهُ مِنْ خَلْقِهِ أَحَدًا، وَأَمَّا الْجَنَّةُ فإِنَّ اللَّهَ يُنْشِئُ لَهَا خَلْقًا مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "تحاجت الجنة والنار، فقالت النار: أوثرت بالمتكبرين والمتجبرين، وقالت الجنة: فما لي لا يدخلني إلا ضعفاء الناس وسقطهم وغرتهم قال الله للجنة: إنما أنت رحمتي أرحم بك من أشاء من عبادي، وقال للنار: إنما أنت عذابي أعذب بك من أشاء من عبادي، ولكل واحدة منكما ملؤها، فأما النار فلا تمتلئ حتى يضع الله رجله تقول: قط قط قط، فهنالك تمتلئ ويزوى بعضها إلى بعض، فلا يظلم الله من خلقه أحدا، وأما الجنة فإن الله ينشئ لها خلقا متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جنت اور دوزخ نے مناظرہ کیا ۱∞؎تو دوزخ بولی کہ میں غرور والوں جابروں سے خاص کی گئی ہوں۲؎جنت بولی کہ پھر میرا کیا حال ہے کہ مجھ میں صرف کمزور لوگ ان میں سے گرے پڑے سیدھے سادھے ہی داخل ہوں گے۳؎اللہ تعالٰی نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے تیرے ذریعے جس بندے پر چاہوں گارحم کروں گا۴؎اور دوزخ سے فرمایا تو میرا عذاب ہے تیرے ذریعہ جس بندے پر چاہوں گا عذاب کروں گا ۵؎تم میں سے ہر ایک کا بھرنا طے شدہ ہے۶؎لیکن آگ تو وہ نہ بھرے گا حتی کہ اللہ تعالٰی اپنا قدم رکھے گا۷؎تو کہے گی بس بس اس وقت بھرجاوے گی اور بعض بعض کی طرف سمٹ جاوے گی۸؎اللہ تعالٰی اپنی کسی مخلوق پر ظلم نہ کرے گا۹؎رہی جنت تو اللہ تعالٰی اس کے لیے ایک مخلوق پیدا کرے گا۱۰؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎یہاں قولی زبانی مناظرہ مراد ہے نہ کہ صرف حال کا اللہ نے ہر چیز میں حواس و شعور کلام پیدا فرمایا ہے"وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ"سب چیزیں نماز تسبیح ذکر کرتی ہیں۔مولانا فرماتے ہیں شعر
نطق آب و نطق خاک و نطق گل ہست محسوس حواس اہل دل
فلسفی کو منکر حنانہ است از حواس اولیاء بیگانہ است
۲؎یعنی اے جنت میں تجھ سے اعلٰی ہوں کہ مجھ میں اعلٰی شاندار لوگ آکر رہیں گے بادشاہ،وزراء،متکبرین مالدار کفار اور تو مجھ سے کمتر ہے کہ کمترین لوگ ضعفاء تجھ میں رہیں گے۔۳؎دوزخ کے کہنے پر جنت نے بارگاہِ الٰہی میں یہ عرض کیا کہ مجھے کمزوروں کی جگہ کیوں بنایا گیا میں نے کیا قصور کیا تھا۔خیال رہے کہضعفاءسے مراد بدن اور مال کے لحاظ سے کمزور لوگ ہیں۔سقطاورغرۃسے مراد ہے احوال و صفات کے لحاظ سے کمزور۔سقطوہ جنہیں لوگ معتبر نہ سمجھیں ان کی طرف التفات نہ کریں۔غرہوہ جودین میں مشغلہ رکھنے والے لوگ جنہیں دنیا کا تجربہ کم ہو کسی کو دھوکہ نہ دے سکیں بلکہ چالاک انہیں دھوکہ دے دیں،حدیث شریف میں ہےالمؤمن غر کریم الکافر خب لئیم۔۴؎چونکہ جنت اللہ تعالٰی کی رحمت کا مظہر ہے اور اللہ تعالٰی کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے اس لیے پہلے اس سے خطاب فرمایا گیا یعنی جنہیں تو ضعیف سمجھتی ہے وہ در حقیقت کمزورنہیں وہ تو میرے رحم و کرم کا مرکز ہیں بڑے درجے والے ہیں۔۵؎یعنی اے دوزخ تو میرا غضب وقہر کا مظہر ہے تجھ میں وہ لوگ رکھے جائیں گے جو اپنے شامت اعمال کی وجہ سے میرے غضب و قہر کے مستحق ہوگئے،تم دونوں ہی اچھی ہو کہ میرے صفات کا مظہر ہو۔عذابیسے مراد ہے عذاب کی جگہ محل عذاب،عدل بھی میری صفت ہے فضل بھی۔۶؎یعنی تم دونوں کا کمال اسی میں ہے کہ تم دونوں ہی بھردی جاؤ،چنانچہ ہم تم میں سے کسی میں جگہ خالی نہیں چھوڑیں گے دونوں کو بھر دیں گے۔۷؎شارحین نےرجلیعنی قدم کے بہت معنی کیے ہیں مگر بہتر یہ ہے کہ پاؤں بمعنی قدم ہی ہو اور اللہ کے قدم سے مراد وہ ہو جو وہ ہی جانے یہ فرمان عالی متشابہات سے ہے ورنہ اس گوشت و پوست کے ہاتھ پاؤں سے رب تعالٰی پاک اور منزہ ہے۔۸؎یعنی جب اللہ تعالٰی آگ میں اپنا قدم قدرت رکھ دے گا تو آگ کا جوش ختم ہوجاوے گا اور زیادتی کا مطالبہ"ہَلْ مِنۡ مَّزِیۡدٍ" بندہوجاوے گا یہ قدم وہاں رہے گا نہیں بالکل نکال لیا جاوے گا۔۹؎یعنی دوزخ بھرنے عذاب دینے کے لیے کوئی مخلوق پیدا نہیں کی جاوے گی کیونکہ یہ ظلم ہے رب تعالٰی ظلم سے پاک ہے۔خیال رہے کہ ظلم سے دو معنی ہیں کسی کی چیز اس کی بغیر اجازت استعمال کرنا،دوسرے کسی کو بغیر قصور سزا دینا یہ کہہ کہ"مَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کُنۡتُمْ تَعْمَلُوۡنَ" پہلے معنی تو رب تعالٰی کے لیے منصور نہیں کہ ہر چیز اللہ تعالٰی کی مخلوق و مملوک ہے دوسرے معنی ظلم سے رب تعالٰی پاک ہے"اِنَّ اللہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ"لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ ا گر اللہ تعالٰی تمام لوگوں کو دوزخ میں بھیج دے تو وہ ظالم نہیں،یہاں ظلم سے پہلے معنی مراد ہیں۔۱۰؎خیال رہے کہ دوزخ صرف بدعقیدگی اور بدعملی سے ملے گی مگر جنت کسبی،وہبی،عطائی تین طرح ملے گی۔اپنی نیکیوں سے جنت ملنا کسبی ہے،کسی نیک کے طفیل ملنا وہبی ہے جیسے مسلمان ماں باپ کے چھوٹے بچے مرے ہوئے یا دیوانہ مسلمان یا ہم جیسے گنہگار حضور کے طفیل،یہ قوم جو جنت بھرنے کے لیے پیدا کی گئی انہیں جنت عطائی ملے گی محض فضل الٰہی سے یہ مسئلہ یہاں سے حاصل ہوا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5694