Main Icon

باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5694

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "تَحَاجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَقَالَتِ النَّارُ: أُوْثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ، وَقَالَتِ الْجَنَّةُ: فَمَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ وَغِرَّتُهُمْ قَالَ اللَّهُ لِلْجَنَّةِ: إِنَّمَا أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي، وَقَالَ لِلنَّارِ: إِنَّمَا أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا، فَأَمَّا النَّارُ فَلَا تَمْتَلِئُ حَتَّى يَضَعَ اللَّهُ رِجْلَهُ تَقُولُ: قَطْ قَطْ قَطْ، فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ، فَلَا يَظْلِمُ اللَّهُ مِنْ خَلْقِهِ أَحَدًا، وَأَمَّا الْجَنَّةُ فإِنَّ اللَّهَ يُنْشِئُ لَهَا خَلْقًا مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "تحاجت الجنة والنار، فقالت النار: أوثرت بالمتكبرين والمتجبرين، وقالت الجنة: فما لي لا يدخلني إلا ضعفاء الناس وسقطهم وغرتهم قال الله للجنة: إنما أنت رحمتي أرحم بك من أشاء من عبادي، وقال للنار: إنما أنت عذابي أعذب بك من أشاء من عبادي، ولكل واحدة منكما ملؤها، فأما النار فلا تمتلئ حتى يضع الله رجله تقول: قط قط قط، فهنالك تمتلئ ويزوى بعضها إلى بعض، فلا يظلم الله من خلقه أحدا، وأما الجنة فإن الله ينشئ لها خلقا متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جنت اور دوزخ نے مناظرہ کیا ۱∞؎تو دوزخ بولی کہ میں غرور والوں جابروں سے خاص کی گئی ہوں۲؎جنت بولی کہ پھر میرا کیا حال ہے کہ مجھ میں صرف کمزور لوگ ان میں سے گرے پڑے سیدھے سادھے ہی داخل ہوں گے۳؎اللہ تعالٰی نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے تیرے ذریعے جس بندے پر چاہوں گارحم کروں گا۴؎اور دوزخ سے فرمایا تو میرا عذاب ہے تیرے ذریعہ جس بندے پر چاہوں گا عذاب کروں گا ۵؎تم میں سے ہر ایک کا بھرنا طے شدہ ہے۶؎لیکن آگ تو وہ نہ بھرے گا حتی کہ اللہ تعالٰی اپنا قدم رکھے گا۷؎تو کہے گی بس بس اس وقت بھرجاوے گی اور بعض بعض کی طرف سمٹ جاوے گی۸؎اللہ تعالٰی اپنی کسی مخلوق پر ظلم نہ کرے گا۹؎رہی جنت تو اللہ تعالٰی اس کے لیے ایک مخلوق پیدا کرے گا۱۰؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں قولی زبانی مناظرہ مراد ہے نہ کہ صرف حال کا اللہ نے ہر چیز میں حواس و شعور کلام پیدا فرمایا ہے"وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ"سب چیزیں نماز تسبیح ذکر کرتی ہیں۔مولانا فرماتے ہیں شعر
نطق آب و نطق خاک و نطق گل ہست محسوس حواس اہل دل
فلسفی کو منکر حنانہ است از حواس اولیاء بیگانہ است
۲
؎یعنی اے جنت میں تجھ سے اعلٰی ہوں کہ مجھ میں اعلٰی شاندار لوگ آکر رہیں گے بادشاہ،وزراء،متکبرین مالدار کفار اور تو مجھ سے کمتر ہے کہ کمترین لوگ ضعفاء تجھ میں رہیں گے۔۳؎دوزخ کے کہنے پر جنت نے بارگاہِ الٰہی میں یہ عرض کیا کہ مجھے کمزوروں کی جگہ کیوں بنایا گیا میں نے کیا قصور کیا تھا۔خیال رہے کہضعفاءسے مراد بدن اور مال کے لحاظ سے کمزور لوگ ہیں۔سقطاورغرۃسے مراد ہے احوال و صفات کے لحاظ سے کمزور۔سقطوہ جنہیں لوگ معتبر نہ سمجھیں ان کی طرف التفات نہ کریں۔غرہوہ جودین میں مشغلہ رکھنے والے لوگ جنہیں دنیا کا تجربہ کم ہو کسی کو دھوکہ نہ دے سکیں بلکہ چالاک انہیں دھوکہ دے دیں،حدیث شریف میں ہےالمؤمن غر کریم الکافر خب لئیم۔۴؎چونکہ جنت اللہ تعالٰی کی رحمت کا مظہر ہے اور اللہ تعالٰی کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے اس لیے پہلے اس سے خطاب فرمایا گیا یعنی جنہیں تو ضعیف سمجھتی ہے وہ در حقیقت کمزورنہیں وہ تو میرے رحم و کرم کا مرکز ہیں بڑے درجے والے ہیں۔۵؎یعنی اے دوزخ تو میرا غضب وقہر کا مظہر ہے تجھ میں وہ لوگ رکھے جائیں گے جو اپنے شامت اعمال کی وجہ سے میرے غضب و قہر کے مستحق ہوگئے،تم دونوں ہی اچھی ہو کہ میرے صفات کا مظہر ہو۔عذابیسے مراد ہے عذاب کی جگہ محل عذاب،عدل بھی میری صفت ہے فضل بھی۔۶؎یعنی تم دونوں کا کمال اسی میں ہے کہ تم دونوں ہی بھردی جاؤ،چنانچہ ہم تم میں سے کسی میں جگہ خالی نہیں چھوڑیں گے دونوں کو بھر دیں گے۔۷؎شارحین نےرجلیعنی قدم کے بہت معنی کیے ہیں مگر بہتر یہ ہے کہ پاؤں بمعنی قدم ہی ہو اور اللہ کے قدم سے مراد وہ ہو جو وہ ہی جانے یہ فرمان عالی متشابہات سے ہے ورنہ اس گوشت و پوست کے ہاتھ پاؤں سے رب تعالٰی پاک اور منزہ ہے۔۸؎یعنی جب اللہ تعالٰی آگ میں اپنا قدم قدرت رکھ دے گا تو آگ کا جوش ختم ہوجاوے گا اور زیادتی کا مطالبہ"ہَلْ مِنۡ مَّزِیۡدٍ" بندہوجاوے گا یہ قدم وہاں رہے گا نہیں بالکل نکال لیا جاوے گا۔۹؎یعنی دوزخ بھرنے عذاب دینے کے لیے کوئی مخلوق پیدا نہیں کی جاوے گی کیونکہ یہ ظلم ہے رب تعالٰی ظلم سے پاک ہے۔خیال رہے کہ ظلم سے دو معنی ہیں کسی کی چیز اس کی بغیر اجازت استعمال کرنا،دوسرے کسی کو بغیر قصور سزا دینا یہ کہہ کہ"مَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کُنۡتُمْ تَعْمَلُوۡنَ" پہلے معنی تو رب تعالٰی کے لیے منصور نہیں کہ ہر چیز اللہ تعالٰی کی مخلوق و مملوک ہے دوسرے معنی ظلم سے رب تعالٰی پاک ہے"اِنَّ اللہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ"لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ ا گر اللہ تعالٰی تمام لوگوں کو دوزخ میں بھیج دے تو وہ ظالم نہیں،یہاں ظلم سے پہلے معنی مراد ہیں۔۱۰؎خیال رہے کہ دوزخ صرف بدعقیدگی اور بدعملی سے ملے گی مگر جنت کسبی،وہبی،عطائی تین طرح ملے گی۔اپنی نیکیوں سے جنت ملنا کسبی ہے،کسی نیک کے طفیل ملنا وہبی ہے جیسے مسلمان ماں باپ کے چھوٹے بچے مرے ہوئے یا دیوانہ مسلمان یا ہم جیسے گنہگار حضور کے طفیل،یہ قوم جو جنت بھرنے کے لیے پیدا کی گئی انہیں جنت عطائی ملے گی محض فضل الٰہی سے یہ مسئلہ یہاں سے حاصل ہوا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5694