Main Icon

باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5697

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- صَلَّى لَنَا يَوْمًا الصَّلَاةَ، ثُمَّ رَقِيَ الْمِنْبَرَ فَأَشَارَ بِيَدِهِ قِبَلَ قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: "قَدْ أُرِيتُ الآنَ مُذْ صَلَّيْتُ لَكُمُ الصَّلَاةَ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ مُمَثَّلَتَيْنِ فِي قِبَلِ هَذَا الْجِدَارِ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

عن أنس: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- صلى لنا يوما الصلاة، ثم رقي المنبر فأشار بيده قبل قبلة المسجد، فقال: "قد أريت الآن مذ صليت لكم الصلاة الجنة والنار ممثلتين في قبل هذا الجدار، فلم أر كاليوم في الخير والشر". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک دن ہم کو نماز پڑھائی پھرمنبر پر تشریف فرما ہوئے ۱∞؎تو اپنے ہاتھ سے مسجد کے قبلہ کی طرف اشارہ کیا،فرمایا ابھی جب میں نے تم کو نماز پڑھائی تو جنت و دوزخ اس دیوار کی جانب میں اپنی شکل میں دکھائی گئیں ۲؎میں نے آج کے دن کی طرح خیروشر کا جامع نہیں دیکھا ۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎نماز سے مراد فرض نماز ہے یعنی پنجگانہ نمازوں میں سے کوئی نماز پڑھائی اس کے بعد وعظ کے لیے منبر شریف پر تشریف لائے۔۲؎اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک دیوار میں اتنی وسیع جنت و دوزخ سما گئیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس دیوار کی طرف ہم نے جنت بھی دیکھی اور دوزخ بھی،جنت دوزخ اپنے مقام پر تھیں،حضور انور کی نگاہ نے دور کی جنت و دوزخ ملاحظہ فرمائیں حالانکہ وہ عالم دوسرا ہے نہ یہ مطلب ہے کہ جنت و دوزخ کے فوٹو دکھائے گئے۔۳؎یعنی جنت سراسر خیر ہے اور دوزخ سراسر شر،میں نے ان دونوں کو اسی وقت اور اس کی جگہ جمع دیکھا۔جو نگاہ مدینہ منورہ میں کھڑے کھڑے جنت و دوزخ کو ملاحظہ فرماسکتی ہیں اس نگاہ سے زمین کا کوئی چپہ کیسے مخفی رہ سکتا ہے،یہ حدیث حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وسعت نظر کی دلیل ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت دوزخ پیدا ہوچکی ہیں،حضور انور نے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہیں اس لیے یہ حدیث صاحب مشکوۃ اس باب میں لائے۔وہ واقعہ دوسرا ہے جب حضور انور نے نماز کسوف میں جنت دوزخ ملاحظہ فرمائیں اور جنت کا خوشہ توڑنے کے لیے ہاتھ مبارک اٹھایا بعد میں فرمایا کہ اگر یہ ہم چاہتے تو وہاں کا خوشہ توڑ لیتے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5697