Main Icon

با ب : چاشت کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1309

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ بَيْتَهَا يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَاغْتَسَلَ وَ صَلّٰى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ فَلَمْ أَرَ صَلَاةً قَطُّ أَخَفَّ مِنْهَا غَيْرَ أَنَّهٗ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ. وَقَالَتْ فِيْ رِوَايَةٍ أُخْرٰىٰ: وَذٰلِكَ ضُحًى ( مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن أم هانئ قالت: إن النبي صلى الله عليه وسلم دخل بيتها يوم فتح مكة فاغتسل و صلى ثماني ركعات فلم أر صلاة قط أخف منها غير أنه يتم الركوع والسجود. وقالت في رواية أخرى: وذلك ضحى ( متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام ہانی سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم فتح مکہ کے دن ان کے گھر میں تشریف لائے آپ نے غسل کیا اور آٹھ رکعتیں پڑھیں ۱∞؎میں نے اس سے زیادہ ہلکی نماز کوئی نہ دیکھی بجز اس کے کہ آپ رکوع اور سجدہ پورا کرتے تھے ۲؎اور دوسری روایت میں فرمایا یہ چاشت کا وقت تھا۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث نماز چاشت کی بڑی قوی دلیل ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ نماز گھر میں پڑھنا بہتر ہے۔خیال رہے کہ ام ہانی کا نا م فاختہ یا عاتکہ بنت ابی طالب ہے،علی مرتضٰی کی حقیقی بہن ہیں،آپ مجبورًا مکہ معظمہ سے ہجرت نہ کرسکی تھیں۔۲؎یعنی یہ نماز حضور صلی الله علیہ وسلم کی دوسری نمازوں سے ہلکی،رکوع سجدے تو ویسے ہی دراز تھے مگر قیام اور قعدہ ہلکا تھا لہذا اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ آپ نے قیام و قعدہ پورا نہ کیا۔۳؎یعنی یہ نماز شکرانہ وغیرہ کی نہ تھی بلکہ چاشت کی تھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1309