Main Icon

با ب : چاشت کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1319

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تُصَلِّي الضُّحٰى ثَمَانِي رَكَعَاتٍ ثُمَّ تَقُولُ: «لَوْ نُشِرَ لِي أَبَوَايَ مَا تَرَكْتُهُمَا» . رَوَاهُ مَالِكٌ

وعن عائشة أنها كانت تصلي الضحى ثماني ركعات ثم تقول: «لو نشر لي أبواي ما تركتهما» . رواه مالك

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ آپ چاشت کی آٹھ رکعتیں پڑھتی تھیں پھر فرماتیں کہ اگر میرے ماں باپ اٹھا بھی دیئے جائیں تو میں یہ رکعتیں نہ چھوڑوں ۱∞؎(مالک)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر اشراق کے وقت مجھے خبر ملے کہ میرے والدین زندہ ہوکر آگئے ہیں تو میں ان کی ملاقات کےلیئے یہ نفل نہ چھوڑوں بلکہ پہلے یہ نفل پڑھوں پھر ا ن کی قدم بوسی کروں۔اس کی اوربھی شرحیں کی گئی ہیں مگر یہ زیادہ مناسب ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1319