Main Icon

با ب : چاشت کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1320

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحٰى حَتّٰى نَقُولَ: لَا يَدَعُهَا وَيَدَعُهَا حَتّٰى نَقُولَ: لَا يُصَلِّيْهَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن أبي سعيد قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي الضحى حتى نقول: لا يدعها ويدعها حتى نقول: لا يصليها. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم چاشت پڑھتے رہتے حتی کہ ہم کہتے اب چھوڑیں گے ہی نہیں اور چھوڑے ر ہتے حتی کہ ہم کہتے کہ اب آپ پڑھیں گے ہی نہیں ۱∞؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نماز چاشت کی احادیث بہت ہیں اس کی راوی صرف ام ہانی نہیں۔حضرت عائشہ صدیقہ سے جو منقول ہے کہ آپ چاشت نہیں پڑھتے تھے اس سے مراد ہے کہ ہمیشہ نہیں پڑھتے تھے کبھی کبھی پڑھتے تھے یا مسجد میں نہیں پڑھتے تھے۔خیال رہے کہ ہم کو نوافل پر ہمیشگی چاہیے،نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اکثر نوافل پر ہمیشگی نہ فرماتے تھے تاکہ امت اسے واجب نہ سمجھ لے یا امت کےلیئے سنت مؤکدہ نہ بن جائے،آپ کے اور احکام ہیں ہمارے کچھ اور۔مرقاۃ نے فرمایا کہ چاشت کی نماز آپ پر واجب تھی مگر ہر دن نہیں کبھی کبھی۔واللّٰہ اعلم!

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1320