Main Icon

باب : عتیرہ کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1477

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ” . قَالَ: وَالْفَرْعُ: أَوَّلُ نَتَاجٍ كَانَ يُنْتَجُ لَهُمْ كَانُوا يَذْبَحُونَهٗ لِطَوَاغِيتِهمْ. وَالْعَتِيرَةُ: فِي رَجَبٍ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: “لا فرع ولا عتيرة” . قال: والفرع: أول نتاج كان ينتج لهم كانوا يذبحونه لطواغيتهم. والعتيرة: في رجب(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا نہ فرع ہے نہ عتیرہ ۱∞؎فرماتے ہیں کہ فرع وہ پہلا بچہ تھا جانور کا جو ان کے ہاں پیدا ہوتا جسے اپنے بتوں کے لیے ذبح کرتےتھے اورعتیرہ رجب میں تھا ۲؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اسلام میں فرع توبالکل حرام ہے اورعتیرہ کا ثواب نہیں کیونکہ فرع تو بتوں کے لیے ہی ذبح ہوتا تھا مگر عتیرہ کفار بتوں کے لیے کرتے تھے،مسلمان الله کے لیے۔فرع کی تفسیرخودحدیث میں آگے آرہی ہے۔۲؎جسےکفاربتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے اوراس کا خون بتوں پر ملتے تھے اورمسلمان الله کے لیئے لہذا فرع اسلام میں کبھی نہیں ہوا،عتیرہ پہلے تھا اور بعدمیں منسوخ ہوگیا۔حضرت نبیشہ فرماتےہیں کہ کسی شخص نےحضورصلی الله علیہ وسلم سےعتیرہ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ جس مہینہ میں چاہو الله کے لیے ذبح کرو الله کے لیے کھلاؤ۔ابن سیرین رجب میں جانور ذبح کرتے تھے۔(مرقاۃ)معلوم ہوا کہ اس کا وجوب یا سنیت منسوخ ہے،اباحت باقی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1477