Main Icon

باب : عتیرہ کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1478

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ مُخْنَفِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ: كُنَّا وُقُوفًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ فَسَمِعْتُهٗ يَقُولُ: “يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ عَلیٰ كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُضْحِيَّةً وَعَتِيرَةً هَلْ تَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ؟ هِيَ الَّتِي تُسَمُّونَهَا الرَّجَبِيَّةَ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ وَابْن ماجه وَقَالَ التِّرْمِذِيْ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ضَعِيفُ الْإِسْنَادِ وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَالْعَتِيرَة مَنْسُوخَةٌ

عن مخنف بن سليم قال: كنا وقوفا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بعرفة فسمعته يقول: “يا أيها الناس إن علی كل أهل بيت في كل عام أضحية وعتيرة هل تدرون ما العتيرة؟ هي التي تسمونها الرجبية” . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه وقال الترمذي: هذا حديث غريب ضعيف الإسناد وقال أبو داود: والعتيرة منسوخة

حدیث ترجمہ

روایت ہےحضرت مخنف بن سلیم سےفرماتےہیں کہ ہم رسول الله کے ساتھ عرفہ میں ٹھہرے تھے کہ میں نے آپ کو فرماتے سنا اے لوگوں ہرگھر والے پر ہر سال ایک قربانی ہے اور ایک عتیرہ فرمایا کیا جانتے ہوعتیرہ کیا ہے یہ وہی ہے جسے تم رجبیہ کہتے ہو ۱∞؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ)اورترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے،اسناد ضعیف ہے۲؎اور ابو داؤدنے فرمایا کہ عتیرہ منسوخ ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث سےمعلوم ہورہا ہے کہ عتیرہ قربانی کی طرح واجب ہے،قربانی سےمنسوخ ہواکیونکہ حجۃ الوداع کےبعد کوئی اسلامی حکم منسوخ نہیں ہوا،لیکن یہ حدیث بالکل ضعیف ہے،نیز احادیث صحیحہ کے مخالف ہے۔ابھی مسلم،بخاری کی حدیث گزر چکی کہ نہ فرع ہے نہ عتیرہ بلکہ ہرگھر والے پر تو قربانی بھی واجب نہیں،وہ بھی امیروں پر ہی واجب ہے۔اور اس سےمعلوم ہورہا ہے کہ ہر ایک پر واجب ہے۔۲؎کیونکہ مخنف ابن سلیم سے روایت کرنے والے صرف ابورملہ ہیں اور وہ محدثین کے نزدیک بالکل مجہول ہیں،عتیرہ کے متعلق ابوداؤد وغیرہ میں روایات ہیں جن سے اس کا جواز معلوم ہوتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1478